ایمان ظاہر شاہ
ہم مڈل کلاس لوگوں کا ایک ایسا خواب ہے جسے پورا کرنے کے لیے ہم اپنی پوری زندگی کی کمائی لگا دیتے ہیں۔ یہ خواب ہے اپنا ذاتی گھر۔
یہ بھی پڑھیے: دیر بالا: بچے پر تشدد کا الزام، استاد کے ساتھ کیا ہوا؟
بچپن سے ہمیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ جب تک اپنا گھر نہ ہو نہ سکون ملتا ہے نہ عزت اور نہ ہی آزادی۔ آہستہ آہستہ یہ بات ہمارے ذہن میں اس قدر بیٹھ جاتی ہے کہ ہمیں لگنے لگتا ہے جیسے جینے کے لیے سب سے ضروری چیز اپنا گھر ہی ہے۔
میں اکثر ایسے لوگوں کو دیکھتی ہوں جو بظاہر ایک اچھی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ان کے بچے اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں، گھر کا نظام بھی ٹھیک چل رہا ہوتا ہے، لیکن دل کے کسی کونے میں ایک خلا رہتا ہے۔ جب ان سے پوچھا جائے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ بس اپنا گھر بن جائے، پھر سکون آ جائے گا۔
یہ “سکون” ایک ایسا لفظ بن چکا ہے جسے ہم نے صرف گھر کی چار دیواری سے جوڑ دیا ہے۔
یہ سوچ اب صرف ایک خواہش نہیں رہی بلکہ ایک جذباتی دباؤ بن چکی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اگر کسی کے پاس اپنا گھر نہ ہو تو اسے ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے عزت اور شرافت کو بھی ذاتی گھر کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔
رشتہ کرتے وقت پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ اپنا گھر ہے یا کرائے کا۔ اگر جواب ہاں میں ہو تو سب مطمئن، اور اگر نہ میں ہو تو بات وہیں رک جاتی ہے۔ یوں ایک انسان کی شخصیت، اس کے کردار اور اس کی قابلیت کو نظر انداز کر کے صرف ایک چیز پر فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔
اسی دباؤ کے تحت بہت سے لوگ اپنی خواہشات کو دبا دیتے ہیں۔ وہ اپنی خوشیوں، اپنی ضروریات اور کبھی کبھی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ ایک دن وہ کہہ سکیں کہ یہ میرا اپنا گھر ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سفر میں اکثر لوگ قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ بینک لون، ادھار اور مالی پریشانی ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر وہی گھر جسے سکون کی جگہ ہونا چاہیے تھا، وہی پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔
اگر ہم ذرا ٹھہر کر سوچیں تو ایک اہم سوال سامنے آتا ہے۔کیا واقعی اپنا گھر ہی سکون کی ضمانت ہے؟
ماہرین کے مطابق ایک مستحکم زندگی کے لیے سب سے پہلے مضبوط آمدنی کا ذریعہ، مالی منصوبہ بندی اور بچت ضروری ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف گھر بنانے پر لگا دے تو اس کے پاس نہ ہنگامی حالات کے لیے بچت رہتی ہے اور نہ ہی سرمایہ کاری کے مواقع۔
اگر یہی پیسہ کسی کاروبار میں لگایا جائے، کسی ہنر کو سیکھنے پر خرچ کیا جائے یا بچوں کی معیاری تعلیم پر لگایا جائے تو یہ نہ صرف آمدنی بڑھا سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط مستقبل بھی فراہم کر سکتا ہے۔
دنیا کے کئی ترقی یافتہ معاشروں میں لوگ ساری زندگی کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں اور اسے کوئی کمی نہیں سمجھتے۔ ان کے لیے اہم چیز مالی استحکام، ذہنی سکون اور معیارِ زندگی ہوتا ہے، نہ کہ صرف گھر کی ملکیت۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنا گھر ہونا غلط ہے۔ یہ یقیناً ایک خوبصورت خواہش ہے اور ہر انسان کو اس کا حق ہے۔ لیکن جب یہ خواہش ضد بن جائے، اور اس کے لیے ہم اپنی زندگی کا سکون، اپنی خوشیاں اور اپنے رشتے قربان کر دیں، تو پھر ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں ایک سادہ سی بات سمجھنے کی ہے۔
گھر اینٹوں اور دیواروں سے نہیں بنتا، گھر ان لوگوں سے بنتا ہے جو اس میں رہتے ہیں۔ محبت، سکون، عزت اور اپنائیت ہی اصل گھر بناتے ہیں۔
اگر یہ سب موجود ہو تو کرائے کا گھر بھی جنت لگتا ہے، اور اگر یہ نہ ہوں تو اپنا محل بھی خالی محسوس ہوتا ہے۔
شاید ہمیں اپنی سوچ کو تھوڑا بدلنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم صرف گھر نہ بنائیں بلکہ ایک پرسکون اور خوشحال زندگی بھی بنا سکیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
