خیبر پختونخوا اسمبلی میں کیلاش کمیونٹی کے عائلی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیلاش میرج ایکٹ 2024 ابتدائی مرحلے میں پیش کر دیا گیا۔

 

مجوزہ قانون کے تحت صدیوں پرانی روایات رکھنے والی کیلاش برادری کے شادی، طلاق اور وراثت جیسے معاملات کو پہلی بار باقاعدہ قانونی تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

 

ماہرین کے مطابق اس قانون سے نہ صرف قانونی ابہام دور ہوگا بلکہ کمیونٹی کو درپیش عملی مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

 

تفصیلات کے مطابق بل میں کیلاش روایات جیسے علاشنگ (روایتی شادی) اور جاہوتک (طلاق) کی واضح تعریف شامل کی گئی ہے، جبکہ شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے اور فریقین کا ذہنی طور پر صحت مند ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں:سوات کا گم ہوتا ذائقہ: بیگمئی چاول کی کاشت کیوں ختم ہو رہی ہے؟

 

شادی، طلاق اور علیحدگی کا اندراج مقامی کونسل میں کرنا بھی لازمی ہوگا۔

قانون میں وراثت، جہیز اور بچوں کے حقوق سے متعلق رہنمائی بھی فراہم کی گئی ہے، جبکہ خلاف ورزی پر سزاؤں کی تجاویز شامل ہیں اور مقدمات فیملی کورٹس میں سنے جائیں گے۔

 

کیلاش کمیونٹی کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی وزیر زادہ کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ماضی میں قانونی حیثیت نہ ہونے کے باعث کئی مسائل کا سامنا تھا، تاہم نئے قانون سے یہ مشکلات کم ہوں گی۔

 

دوسری جانب سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم نے بل کو حساس قرار دیتے ہوئے مزید غور کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے، جہاں اس پر تفصیلی بحث کے بعد اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔