سوات کی سرسبز وادی صرف اپنی قدرتی خوبصورتی، پھلوں اور ٹھنڈے موسم کی وجہ سے ہی مشہور نہیں، بلکہ اس کی مقامی خوراک اور روایتی ذائقے بھی اس خطے کی پہچان رہے ہیں۔ انہی روایتی ذائقوں میں ایک اہم نام JP-5 چاول کا ہے، جسے سوات کی مقامی زبان اور روزمرہ بول چال میں بیگمئی چاول کہا جاتا ہے۔
یہی بیگمئی چاول کبھی سوات کے گھروں، کھیتوں اور بازاروں میں خاص مقام رکھتا تھا اور اپنی خوشبو، ذائقے اور نرم پکنے کی وجہ سے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پسند کیا جاتا تھا۔
سوات میں بیگمئی چاول صرف ایک فصل نہیں بلکہ مقامی خوراکی روایت کا حصہ بھی ہے۔ مقامی خواتین کے مطابق سوات کی مشہور روایتی ڈش “ورژالی” بھی بیگمئی چاول سے تیار کی جاتی ہے۔ ورژالی مقامی ساگ، شوتل، شالخی، پالک اور ہرے لہسن کے ساتھ بنائی جاتی ہے، اور اس میں بیگمئی چاول کا ذائقہ ایک الگ ہی پہچان رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوات کے بہت سے لوگ آج بھی کہتے ہیں کہ بیگمئی چاول کی پکی ہوئی خوشبو اور ذائقہ دوسری اقسام میں محسوس نہیں ہوتا۔

تاہم وقت کے ساتھ یہ مقامی چاول آہستہ آہستہ کھیتوں سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔ جو چاول کبھی سوات کی زرعی شناخت سمجھا جاتا تھا، آج اس کی کاشت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ کسانوں، تاجروں، مقامی صارفین اور محکمہ زراعت کے مطابق اس کی پیداوار میں نمایاں کمی آ چکی ہے اور کئی علاقوں میں یہ فصل تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
اس کی جگہ اب زیادہ پیداوار دینے والی دوسری اقسام، خصوصاً فخرِ ملاکنڈ چاول، زیادہ کاشت کی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود بیگمئی چاول کی مانگ آج بھی برقرار ہے، اور بازار میں اس کی قلت کے باعث اس کی قیمت عام چاول سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر: وادی تیراہ متاثرین کے لیے امدادی رقم اور واپسی کا حتمی لائحہ عمل کب طے ہوگا؟
سوات کی رہائشی بخت زرین کہتی ہیں کہ بیگمئی چاول ان کے گھر میں ہمیشہ پسند کیا جاتا ہے اور یہ صرف کھانے کی چیز نہیں بلکہ ذائقے اور روایت کی پہچان ہے۔
بخت زرین کا کہنا ہے:
“مجھے بیگمئی چاول بہت پسند ہے۔ اس کی خوشبو اور ذائقہ دوسری اقسام سے بالکل مختلف ہے۔ پہلے یہ بازار میں آسانی سے مل جاتا تھا، لیکن اب بہت کم ملتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے چاول پکانا بھی کم کر دیا ہے، کیونکہ جو ذائقہ بیگمئی میں تھا، وہ دوسری اقسام میں نہیں ملتا۔ سوات میں ورژالی جیسی مقامی ڈش بھی اسی چاول سے زیادہ اچھی بنتی ہے، اور ورژالی کے بغیر سردی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔”

مقامی کاشتکاروں کے مطابق بیگمئی چاول کی فصل اب پہلے جیسی آسان یا محفوظ نہیں رہی۔ مینگورہ سوات کے علاقے اینگروں ڈھیرئی سے تعلق رکھنے والے کاشتکار عبدالرحمان کہتے ہیں کہ ان کے خاندان میں بیگمئی چاول کی کاشت کئی نسلوں سے ہوتی رہی، مگر وقت کے ساتھ اس میں ایسے مسائل بڑھتے گئے جنہوں نے کسانوں کو دوسری اقسام کی طرف جانے پر مجبور کر دیا۔
عبدالرحمان کہتے ہیں:
“ہم تقریباً چالیس سال پہلے بھی بیگمئی چاول کی کاشت کر رہے تھے، اور اس سے پہلے ہمارے آبا و اجداد بھی یہ فصل اگاتے تھے۔ پہلے اس کی پیداوار فی ایکڑ پچاس من سے بھی زیادہ ہوتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ اس میں بہت سے مسائل پیدا ہوئے، خاص طور پر اس کے خوشے اکثر خالی رہ جاتے تھے، جسے مقامی زبان میں ‘جال’ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں تنا کھانے والے کیڑے بھی زیادہ آتے تھے، اور بعض اوقات پوری فصل تباہ ہو جاتی تھی۔”
عبدالرحمان کے مطابق زمین، پانی یا موسم میں شاید کوئی بہت بڑی اور اچانک تبدیلی محسوس نہ ہوئی ہو، لیکن بیگمئی چاول کے لیے وقت کے ساتھ نئے اور نقصان دہ مسائل ضرور بڑھ گئے، جس سے اس کی کاشت مشکل ہوتی گئی۔ اسی وجہ سے کاشتکاروں نے بیگمئی چاول کی بجائے زیادہ پیداوار دینے والی دوسری اقسام، خاص طور پر فخرِ ملاکنڈ، کی کاشت شروع کر دی۔
وہ کہتے ہیں:
“ہم نے بیگمئی کی جگہ دوسری اقسام، جیسے فخرِ ملاکنڈ، اس لیے لگانا شروع کیں کہ ان کی پیداوار زیادہ ہے اور مسائل نسبتاً کم ہیں۔”
وہ مزید کہتے ہیں کہ اگرچہ لاگت اور اخراجات میں بہت زیادہ فرق نہیں، لیکن بیگمئی کی کم پیداوار کی وجہ سے مجموعی آمدن کم رہ جاتی ہے، جس کے باعث کسان معاشی طور پر اس سے پیچھے ہٹتے گئے۔
عبدالرحمان کہتے ہیں:
“لاگت اور اخراجات کے لحاظ سے بہت زیادہ فرق نہیں، لیکن اگر پیداوار اور قیمت کا تقابل کیا جائے تو بیگمئی سے مجموعی آمدن کم رہ جاتی ہے، کیونکہ اس کی پیداوار کم ہو چکی ہے۔”
اس کے باوجود وہ واضح کرتے ہیں کہ آج بھی بیگمئی چاول کی مانگ بہت زیادہ ہے، اور اس کی قیمت 290 روپے فی کلو تک مل جاتی ہے، جبکہ فخرِ ملاکنڈ کی قیمت 149 روپے فی کلو ہے۔
وہ اس امید کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ اگر حکومت معیاری بیج، کھاد اور مناسب رہنمائی فراہم کرے تو کسان دوبارہ اس کی کاشت کی طرف آ سکتے ہیں۔
بیگمئی چاول کی قلت کے باوجود اس کی مقبولیت اب بھی کم نہیں ہوئی۔
منگلور سے تعلق رکھنے والے چاول فروش ساجد علی کے مطابق بازار میں آج بھی بیگمئی یعنی JP-5 کی مانگ بہت زیادہ ہے، اور خریدار نہ صرف سوات بلکہ ملک کے مختلف علاقوں، خاص طور پر کراچی، مردان اور چارسدہ سے اسے خریدنے آتے ہیں۔
ان کے مطابق اگرچہ فخرِ ملاکنڈ بڑی مقدار میں دستیاب ہے، لیکن بہت سے لوگ اسے بیگمئی کا متبادل نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں کے ذائقے اور پکنے میں واضح فرق ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں بیگمئی چاول کی دستیابی صرف 7 سے 10 فیصد تک رہ گئی ہے۔

محکمہ زراعت کے مطابق بیگمئی چاول سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کی ایک قدیم مقامی قسم ہے، جو محض ایک زرعی فصل نہیں بلکہ اس علاقے کے زرعی ورثے اور ثقافتی شناخت کا حصہ بھی ہے۔ سوات میں محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر افتخار احمد کے مطابق گزشتہ کئی برسوں میں اس کے زیرِ کاشت رقبے اور پیداوار دونوں میں مسلسل کمی آئی ہے۔
ان کے مطابق:
“گزشتہ 15 سے 20 سال کے دوران بیگمئی چاول کے زیرِ کاشت رقبے میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ کئی علاقوں میں اس کی کاشت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ رقبے اور پیداوار میں تقریباً 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔”
ڈاکٹر افتخار احمد کے مطابق اس کمی کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، جن میں زیادہ پیداوار دینے والی نئی اقسام کا فروغ، خالص بیج کی کمی، موسمی دباؤ، بیماریوں اور کیڑوں کے مسائل، اور معاشی بنیادوں پر کسانوں کے بدلتے فیصلے شامل ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
“نئی اقسام، جیسے فخرِ ملاکنڈ، زیادہ پیداوار دیتی ہیں، کم وقت میں تیار ہو جاتی ہیں اور نسبتاً زیادہ منافع دیتی ہیں۔ اسی لیے کسان معاشی بنیادوں پر ان کی طرف جا رہے ہیں۔ دوسری طرف بیگمئی جیسے مقامی چاول کے لیے خالص بیج کی دستیابی بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔”

محکمہ زراعت کے مطابق اس مقامی چاول کے خالص بیج کو محفوظ کیا جا رہا ہے، جبکہ کاشتکاروں کو اس کی کاشت، دیکھ بھال اور بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ اس مقامی قسم کو دوبارہ فروغ دیا جا سکے۔
بیگمئی چاول صرف ایک مقامی فصل نہیں بلکہ سوات کی مٹی، خوراک اور روایت کا حصہ ہے۔ اگر بروقت توجہ دی جائے، مقامی بیج محفوظ کیے جائیں، کاشتکاروں کو سہارا دیا جائے اور اسے سوات کی خاص زرعی پہچان کے طور پر دوبارہ سامنے لایا جائے، تو یہ ممکن ہے کہ سوات کا یہ گم ہوتا ذائقہ ایک بار پھر کھیتوں سے گھروں اور دسترخوانوں تک واپس آ جائے۔
