خولہ زرافشاں
آج کل خوشی کی تقریبات میں جھاگ والے اسپرے، جنہیں عام طور پر Snow Spray کہا جاتا ہے، کا استعمال ایک عام روایت بنتا جا رہا ہے۔
شادی ہو، منگنی، سالگرہ، مہندی یا ختمِ قرآن کی محفل، تقریباً ہر خوشی کے موقع پر یہ اسپرے تفریح اور جوش و خروش کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اب تقریبات کی رونق اس کے بغیر ادھوری رہ گئی ہو۔
بظاہر یہ چند لمحوں کی خوشی اور تفریح معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے پسِ پردہ موجود نقصانات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نوشہرہ کے آئل ٹرمینلز ماحولیات کے لیے خطرہ قرار، ای پی اے کی کارروائی
تقریبات میں بعض لوگ یہ اسپرے براہِ راست دوسروں کے چہروں، آنکھوں اور کپڑوں پر پھینک دیتے ہیں، جس سے نہ صرف دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے بلکہ کئی طبی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
اس حوالے سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ماہرِ امراضِ جلد ڈاکٹر زبیر کا کہنا ہے کہ جھاگ والے اسپرے میں مختلف کیمیکلز شامل ہوتے ہیں، جن میں سالوینٹس، پروپیلنٹس اور بعض اوقات میتھائلین کلورائیڈ جیسے مضر اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکلز انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر زبیر کے مطابق اگر یہ اسپرے براہِ راست آنکھوں میں چلا جائے تو شدید جلن، سرخی، پانی آنے اور درد جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
بعض صورتوں میں اس میں موجود تیزابی یا الکلائن مادے آنکھ کے حساس حصے، یعنی کارنیا (Cornea)، کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں، جو بینائی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی طرح جن افراد کو پہلے سے دمہ، الرجی یا سانس کی بیماریوں کا مسئلہ ہو، ان کے لیے یہ اسپرے مزید خطرناک بن سکتا ہے۔
اسپرے میں شامل کیمیکل سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر دمے کے شدید دورے (Asthma Attack) کو متحرک کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر بند کمروں میں جہاں اس کا زیادہ استعمال کیا جائے، وہاں اس کے اثرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
جلد پر زیادہ دیر تک جھاگ لگے رہنے سے الرجی، خارش، سرخی اور خشکی پیدا ہو سکتی ہے۔ حساس جلد رکھنے والے افراد، خصوصاً خواتین اور بچے، اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ بچے تفریح میں ایک دوسرے پر ضرورت سے زیادہ اسپرے کر دیتے ہیں، جس سے ان کی جلد اور سانس دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس اسپرے کا ایک اور خطرناک پہلو اس کا آتش گیر ہونا بھی ہے۔ سالگرہ کی تقریبات میں جب موم بتیاں جل رہی ہوں اور اسی دوران اسپرے کا استعمال کیا جائے تو آگ لگنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، کیونکہ اس میں موجود بعض مادے انتہائی آتش گیر (Highly Flammable) ہوتے ہیں اور معمولی چنگاری سے بھی آگ پکڑ سکتے ہیں۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ جھاگ کیک یا کھانے کی اشیاء پر گر جاتی ہے، جو بعد میں غیر محسوس انداز میں کھا لی جاتی ہیں۔ چونکہ اس اسپرے میں شامل کیمیکلز خوراک کے لیے موزوں نہیں ہوتے، اس لیے یہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگر جھاگ والے اسپرے کا استعمال ناگزیر ہو تو احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ اسے مناسب فاصلے سے استعمال کیا جائے، کسی کے چہرے، آنکھوں یا جسم پر براہِ راست نہ پھینکا جائے، اور بچوں کو اس کے غیر محتاط استعمال سے روکا جائے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم دوسروں کی غیر ضروری اور نقصان دہ روایات کو تو جلد اپنا لیتے ہیں، مگر اپنی خوبصورت ثقافتی روایات کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہماری پرانی تقریبات محبت، خلوص اور سادگی کا حسین امتزاج ہوا کرتی تھیں۔
ہمارے بزرگ خوشیوں کے مواقع نہایت سادہ مگر دلکش انداز میں مناتے تھے۔ شادی بیاہ کے موقع پر گلاب کی پتیاں نچھاور کی جاتیں، جبکہ بچوں میں ٹافیاں، چاکلیٹس، ریوڑیاں اور خشک میوہ جات تقسیم کیے جاتے تھے۔

اگر کوئی صاحبِ حیثیت ہوتا تو بچوں میں پیسوں کے نوٹ بھی نچھاور کیے جاتے، جو ان کے لیے خوشی اور دلچسپی کا خاص باعث بنتے تھے۔ یہ روایات نہ صرف خوشی بلکہ محبت، احترام اور خاندانی وابستگی کا احساس بھی اجاگر کرتی تھیں۔
مگر آج ہم اپنی انہی خوبصورت روایتوں کو فراموش کر کے مصنوعی اور وقتی تفریح کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے باعث نئی نسل اپنی تہذیب اور ثقافت سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی تقریبات کو شور و ہنگامے کے بجائے محبت، سادگی اور اپنی خوبصورت روایات کے رنگوں سے سجائیں، کیونکہ حقیقی خوشی اپنائیت اور خلوص میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
