فضاؤں میں لبیک اللہم لبیک کی صدائیں گونج اٹھیں، جبکہ عالمِ اسلام روحانی کیفیت سے سرشار ہوگیا۔ دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ اسلام نے فریضۂ حج ادا کیا اور میدانِ عرفات میں مسجدِ نمرہ سے خطبۂ حج کے روح پرور مناظر دنیا بھر میں براہِ راست دیکھے اور سنے گئے۔

 

امامِ مسجد نبوی ﷺ شیخ علی عبدالرحمٰن الحذیفی نے خطبۂ حج دیتے ہوئے تقویٰ، اتحادِ امت، بھائی چارے اور باہمی احترام پر زور دیا۔ انہوں نے عالمِ اسلام کے لیے امن، رواداری اور یکجہتی کا پیغام دیتے ہوئے مسلم اُمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔

 

خطبۂ حج میں امامِ مسجد نبوی ﷺ نے کہا کہ “رب کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، تقویٰ اختیار کرو اور صرف اللہ سے ڈرو۔ مسلمانوں کو کسی بھی مشکل میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔”

 

 

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے، کیونکہ جن قوموں نے ظلم اور ناشکری کا راستہ اختیار کیا، ان سے نعمتیں چھین لی گئیں۔

 

 خطبۂ حج میں امتِ مسلمہ کو دینِ اسلام کی تعلیمات پر عمل، اتحاد و اتفاق اور صبر و استقامت اختیار کرنے کی تلقین کی گئی۔