خیبر ضلع کے تاریخی تجارتی مراکز باڑہ بازار اور تیراہ مرکزی باغ بازار اس وقت بدحالی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہیں، جس پر مقامی تاجر برادری، مزدور طبقے اور تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے تاجروں نے حکومت خیبرپختونخوا سے فوری ریلیف، کاروباری بحالی، بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔
باڑہ تاجر یونین کے صدر سید ایاز وزیر نے بتایا کہ 2009 سے قبل باڑہ بازار ایک بڑا اور تاریخی تجارتی مرکز تھا جہاں 10,000 سے زائد دکانیں اور ہزاروں گودام قائم تھے، اور ملک بھر سے لوگ روزگار کے حصول کے لیے یہاں آتے تھے۔
ان کے مطابق ٹرانزٹ ٹریڈ اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کے باعث ہزاروں مزدوروں کو روزگار حاصل تھا۔ تاہم 1 ستمبر 2009 کو شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد باڑہ بازار کو بند کر دیا گیا، جو کئی سال تک بند رہا، اس دوران مارکیٹیں ویران ہو گئیں، دکانوں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ختم ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: موسم میں تبدیلی، کن علاقوں میں بارش اور کہاں گرمی برقرار رہے گی؟
بعد ازاں فروری 2016 میں بازار دوبارہ کھولا گیا، لیکن تاجروں کے پاس سرمایہ نہ ہونے کے باعث کاروبار بحال نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ بازار کو دوبارہ کھلے 11 سال گزر چکے ہیں مگر پرانی رونقیں بحال نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق امن و امان اور بنیادی سہولیات کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی تاکہ تاجروں اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
سید ایاز وزیر نے بتایا کہ بیشتر دکانوں کی چھتیں بندش کے دوران خستہ ہو چکی ہیں اور بارشوں کے دوران کئی بار چھتیں گرنے کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں جس سے تاجروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ تاجروں کو بلاسود قرضے فراہم کرے اور تباہ شدہ دکانوں کی فوری تعمیر نو کرے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ باڑہ بازار میں ایک جدید تربیتی مرکز قائم کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو کاروبار اور روزگار سے متعلق تربیت فراہم کی جا سکے۔ ان کے مطابق اس سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
سید ایاز وزیر نے بازار میں سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کی خرابی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بارشوں کے دوران پانی دکانوں میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ مقامی انتظامیہ کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ باڑہ بازار میں صاف پانی، بجلی، گیس، صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے۔
دوسری جانب باڑہ کے صنعتی علاقوں کے مزدوروں نے بھی اپنے مسائل اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ لیبر ڈیپارٹمنٹ موجود ہے، لیکن عملی طور پر غریب مزدوروں کو کوئی سہولت میسر نہیں۔
مزدوروں نے مطالبہ کیا کہ باڑہ میں لیبر کالونی قائم کی جائے اور پشاور کی طرز پر مزدوروں کے بچوں کے لیے معیاری تعلیمی ادارے بنائے جائیں تاکہ وہ مفت اور بہتر تعلیم حاصل کر سکیں۔ ان کے مطابق درجنوں کارخانوں میں ہزاروں مزدور کام کر رہے ہیں لیکن سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ادھر وادی تیراہ سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے بھی شدید مشکلات کا اظہار کیا ہے۔ تیراہ تاجر برادری کے صدر محمد شیر افگن آفریدی نے بتایا کہ وادی تیراہ سے 8,000 سے زائد تاجر نقل مکانی کر چکے ہیں اور اس وقت آئی ڈی پیز کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ان کے مطابق صرف 10 فیصد تاجروں نے باڑہ، جمرود اور پشاور میں دوبارہ کاروبار شروع کیا ہے جبکہ اکثریت شدید مالی مشکلات اور بے روزگاری کا شکار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 ماہ کے دوران تیراہ تاجر برادری کو 50 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لرباغ مرکزی بازار میں 1,300 دکانیں، بر باغ میں 800 دکانیں اور پیر میلہ بازار میں 900 دکانیں موجود ہیں جبکہ دیگر بازاروں آدم خیل، شلوبر ورسک، نیو باغ اور شنگیر کمر خیل میں بھی سینکڑوں دکانیں قائم ہیں، جن میں خواتین اور اقلیتی برادری کی دکانیں بھی شامل ہیں۔
ان کے مطابق بارشوں اور سڑکوں کی تعمیر کے باعث کئی بازاروں کی دکانیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ شیر افگن آفریدی نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تاجروں کو فوری ریلیف پیکج دیا جائے، بقایا کرایے ادا کیے جائیں اور دکانوں کا معاوضہ فراہم کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بازاروں کی بحالی کے لیے خصوصی گرانٹ جاری کی جائے اور سڑکوں، نکاسی آب، سٹریٹ لائٹس اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بازاروں کو بیوٹیفکیشن منصوبوں میں شامل کیا جائے، فروٹ و سبزی منڈی، جدید قصاب خانے اور ہائیڈل پاور منصوبوں کے ذریعے بجلی کی پیداوار جیسے اقدامات کیے جائیں تاکہ علاقے میں معاشی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔
ادھر تیراہ متاثرین کی واپسی کے حوالے سے جرگہ اور سیکیورٹی حکام کی ملاقاتوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے مطابق ادائیگیوں کا عمل جلد شروع کیا جائے گا جبکہ 10 جون کو دوبارہ جرگہ منعقد ہوگا جس میں واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان متوقع ہے۔
اسی دوران شلوبر کے علاقے حصارہ خوڑ میں درجنوں متاثرہ خاندان اب بھی غاروں اور عارضی کیمپوں میں شدید مشکلات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جہاں گرمی، پانی، بجلی اور خوراک کی شدید قلت نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
حکومتی نمائندوں نے متاثرین کے کیمپوں کا دورہ کر کے بنیادی سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم متاثرین کے مطابق حالات اب بھی انتہائی مشکل ہیں اور فوری عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
