پشاور کے تھانہ خزانہ کی حدود گوہی قادر آباد میں پسند کی شادی کے تنازع پر 16 سالہ لڑکی اور 22 سالہ نوجوان کے قتل کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی، جبکہ مزید ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔
پولیس کے مطابق اتوار کے روز لڑکی کے والد نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کے ہمراہ مبینہ طور پر اپنی 16 سالہ بیٹی مسماة (ل) بی بی اور اس کا رشتہ مانگنے والے 22 سالہ نوجوان محمود کو قتل کردیا۔
یہ بھی پڑھیے: کیا شادیوں اور سالگرہ میں استعمال ہونے والا جھاگ کا اسپرے صحت کے لیے محفوظ ہے؟
بتایا جاتا ہے کہ پہلے نوجوان محمود کو مبینہ طور پر زبردستی ساتھ لے جا کر تشدد کے بعد قتل کیا گیا، جبکہ بعد ازاں گھر کے اندر لڑکی کو بھی جان سے مار دیا گیا۔ واقعے کے بعد مقتول نوجوان کے ورثاء شدید مشتعل ہوگئے اور مبینہ طور پر اسلحہ سمیت علاقے میں نکل آئے۔
ذرائع کے مطابق مشتعل افراد نے لڑکی کے ورثاء کو تدفین اور مسجد میں فوتگی کے اعلان سے بھی روک دیا تھا، جس کے باعث دونوں فریقین کے درمیان دوبارہ تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس نے دونوں فریقین سے مذاکرات کیے جس کے بعد حالات کو قابو میں لایا گیا اور لڑکی کی مقامی قبرستان میں تدفین کے ساتھ مسجد میں فوتگی کا اعلان ممکن بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے نفری تاحال علاقے میں موجود ہے۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مقتول محمود اور مقتولہ پسند کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ لڑکے والوں نے باقاعدہ طور پر رشتہ بھی مانگا تھا تاہم لڑکی کے اہل خانہ اس پر رضامند نہیں تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے دونوں کے درمیان مبینہ تعلق کے شبے میں پہلے نوجوان محمود کو زبردستی ساتھ لے جا کر گورنمنٹ پرائمری سکول ہریانہ پایاں کے قریب کھیتوں میں تشدد کے بعد قتل کیا۔
اس واقعے کی رپورٹ مقتول کے بھائی نوید کی مدعیت میں درج کی گئی، جبکہ بعد ازاں گھر کے اندر لڑکی کو بھی قتل کردیا گیا۔
پولیس نے مقتولہ کے والد زرشیر سمیت دیگر ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
