ضلع خیبر کی تحصیل وادی تیراہ سے بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندان تاحال شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
متاثرین کے مطابق امدادی رقوم کی فراہمی سست روی کا شکار ہے جبکہ اپنے علاقوں میں باعزت واپسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے ان کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ متاثرین، مقامی مشران، تاجر برادری اور احتجاجی قیادت نے حکومتی اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر: کمشنر پشاور کا افغان ہولڈنگ سنٹر کا دورہ، مسائل کے حل کے لیے کیا احکامات جاری ہوئے
وادی تیراہ متاثرین کی 24 رکنی کمیٹی کے سربراہ کمال الدین آفریدی نے کہا ہے کہ متاثرین اس وقت بہت مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ان کے مطابق امدادی رقوم کے حصول میں مختلف رکاوٹیں موجود ہیں، تاہم کمیٹی ان مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین کی امداد کے لیے ایک جامع طریقہ کار بنایا گیا ہے جو تین مراحل پر مشتمل ہے۔
ان کے مطابق پہلے مرحلے میں پائندہ چینہ رجسٹریشن پوائنٹ پر رجسٹرڈ متاثرین کو ترجیحی بنیادوں پر امداد دی جا رہی ہے، جنہیں سم کارڈز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس نظام کے تحت امدادی رقوم کی منتقلی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جلد ہی باقی متاثرہ خاندانوں کو فی خاندان 2 لاکھ 40 ہزار روپے جبکہ 50 ہزار روپے ماہانہ امداد بھی فراہم کی جائے گی۔
دوسرے مرحلے میں باڑہ میں قائم مختلف رجسٹریشن پوائنٹس پر درج متاثرین کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ اصل متاثرین کی نشاندہی ہو سکے۔
تیسرے مرحلے میں ان افراد کی تصدیق کی جائے گی جو ابھی تک کسی بھی مرحلے میں شامل نہیں ہو سکے، جس کی ذمہ داری 24 رکنی کمیٹی انجام دے گی۔
کمال الدین آفریدی کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطہ جاری ہے اور متاثرین کے مسائل کے حل کے لیے مختلف جرگوں کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جلد ہی واپسی کے حوالے سے ایک بڑا جرگہ منعقد کیا جائے گا جس میں اہم فیصلوں کی توقع ہے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ خیبر کے مطابق وادی تیراہ سے بے گھر ہونے والے تقریباً 34 ہزار خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے، جن میں سے 15 ہزار خاندانوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق 14 ہزار 200 خاندانوں میں فی خاندان 2 لاکھ 40 ہزار روپے کی امدادی رقم تقسیم کی جا چکی ہے جبکہ باقی خاندانوں کو جلد ادائیگی کر دی جائے گی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تصدیق کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے پہلے پولیو ڈیٹا کو بنیاد بنایا جاتا تھا، تاہم اب اس میں مقامی قبائلی مشران کی تصدیق بھی شامل کر لی گئی ہے۔ ہر خاندان کی تصدیق متعلقہ قبیلے کے چار معتبر مشران کی منظوری سے کی جا رہی ہے، جس کے بعد رقوم کی ادائیگی سم کارڈ یا چیک کے ذریعے کی جاتی ہے۔
ادھر تحریک تیراہ متاثرین کے ترجمان صحبت خان آفریدی نے بتایا کہ باڑہ پریس کلب کے سامنے جاری احتجاجی دھرنا 65ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک حکومتی سطح پر کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں کیے گئے، جس پر متاثرین میں تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انخلا کے دوران 24 رکنی کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو عوام کے سامنے لایا جائے، متاثرین کے گھروں اور املاک کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے شناختی کارڈز کی درستگی، رجسٹریشن مراکز کی بحالی اور متاثرین کی عزتِ نفس کے احترام پر بھی زور دیا۔
تحصیل باڑہ میں مختلف جرگوں کے دوران مشران نے بھی امدادی رقوم کی فوری فراہمی اور واپسی کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاجر برادری نے بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نقل مکانی کے بعد زیادہ تر افراد بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ کاروباری نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تاجر رہنما شیر افگن آفریدی کے مطابق وادی تیراہ میں ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے اور دکانوں میں موجود سامان ضائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے متاثرہ تاجروں کے لیے مالی امداد، بلا سود قرضوں اور سیکیورٹی کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
تاحال صوبائی حکومت اور منتخب نمائندوں کی جانب سے اس معاملے پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کے باعث متاثرین اور مقامی حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر جامع پالیسی مرتب کرے، امدادی رقوم کی شفاف اور بروقت فراہمی یقینی بنائے اور متاثرین کی باعزت واپسی کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ اس انسانی بحران کا دیرپا حل ممکن بنایا جا سکے۔
