تحریر: انیلہ نایاب

 

نجی اسکولوں کے حالیہ امتحانی نتائج کے اعلان کے بعد ملک بھر کے گھروں میں خوشی اور مسرت کی فضا دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں طلبہ اپنی کامیابی اور اچھے نمبروں پر خوش ہیں جبکہ والدین اپنے بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جس کا دونوں بے صبری سے انتظار کرتے ہیں، اور یہ کامیابی دراصل طلبہ کی محنت، اساتذہ کی رہنمائی اور والدین کی مسلسل معاونت کا نتیجہ ہوتی ہے۔

 

 جیسے ہی بچے اپنے نتائج لے کر گھر پہنچتے ہیں تو والدین کے چہروں پر خوشی اور اطمینان نمایاں ہو جاتا ہے، وہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں، 

یہ بھی پڑھیں: لنڈی کوتل: ایم پی اے عدنان قادری کا افغان مہاجرین کیمپ دورہ، کیا ہدایت دی گئی؟

 

تاہم اس خوشی کے ساتھ ایک معمّولی سی فکری لہر بھی جنم لیتی ہے جو آنے والے تعلیمی اخراجات اور ذمہ داریوں کی طرف ذہن کو متوجہ کرتی ہے۔


نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی نئے تعلیمی سال کی تیاریوں کا آغاز ہو جاتا ہے، جس میں کتابیں، کاپیاں، اسکول بیگ، جوتے اور یونیفارم جیسی بنیادی ضروریات شامل ہوتی ہیں۔

 

 یہ تمام اخراجات والدین کے بجٹ پر نمایاں دباؤ ڈالتے ہیں، خصوصاً ان گھرانوں میں جہاں ایک سے زائد بچے زیر تعلیم ہوں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران والدین کی جانب سے ایک مستقل اور اہم شکایت سامنے آتی رہی ہے کہ بعض نجی تعلیمی ادارے اپنے کیمپس کے اندر ہی اسٹیشنری اور یونیفارم کی فروخت کا انتظام کرتے ہیں، جہاں طلبہ کو کتابیں، کاپیاں اور دیگر تعلیمی سامان مخصوص دکانوں سے خریدنے کا پابند بنایا جاتا ہے، جو اکثر مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر دستیاب ہوتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں والدین کو غیر ضروری مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


مزید برآں بعض اسکول انتظامیہ والدین کو مخصوص سپلائر یا دکان سے ہی یونیفارم اور دیگر تعلیمی سامان خریدنے کی ہدایت کرتی ہے، جس کے باعث ان کے لیے آزادانہ اور متبادل ذرائع سے خریداری کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال پر والدین طویل عرصے سے تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتے آ رہے ہیں اور اسے ایک اضافی معاشی بوجھ قرار دیتے ہیں۔


اسی تناظر میں حکومتِ پنجاب نے حال ہی میں ایک اہم اور قابلِ توجہ پالیسی اقدام اٹھایا ہے، جس کے تحت نجی اسکولوں کے کیمپس کے اندر اسٹیشنری اور یونیفارم کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد والدین پر مالی دباؤ میں کمی لانا اور تعلیمی اداروں کو غیر تدریسی اور تجارتی سرگرمیوں سے دور رکھنا ہے۔
 

حکومتی مؤقف کے مطابق تعلیمی اداروں کا اصل اور بنیادی کردار معیاری تعلیم کی فراہمی ہے، نہ کہ تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے منافع کمانا۔ اسی لیے اب کسی بھی نجی اسکول کو اپنے کیمپس کے اندر ایسی فروخت کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ والدین کو کسی مخصوص ذریعہ سے خریداری پر مجبور کر سکیں گے۔


تاہم تعلیمی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ محض پالیسی کا اعلان کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پر مؤثر، مستقل اور سخت عملدرآمد ناگزیر ہے۔ اگر نگرانی کے نظام میں کمزوری رہی تو بعض ادارے ان پابندیوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے اس اقدام کی افادیت متاثر ہو سکتی ہے۔


مجموعی طور پر دیکھا جائے تو طلبہ کی کامیابی یقیناً خوشی اور اطمینان کا باعث ہے، تاہم اس کے ساتھ منسلک تعلیمی اخراجات والدین کے لیے ایک مستقل چیلنج بنے رہتے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کا یہ اقدام اس سمت میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے، جس کا مقصد تعلیمی نظام کو زیادہ شفاف، منصفانہ اور والدین کے لیے قابل برداشت بنانا ہے۔


اگر خیبرپختونخوا حکومت اور حکومتِ پاکستان بھی پنجاب حکومت کی طرح ایسی پالیسیاں اپنائیں اور عملی اقدامات کریں جن کا مقصد تعلیمی اداروں میں غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہو، تو اس سے والدین پر مالی بوجھ واضح طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار میں بہتری اور عام شہری کے لیے تعلیم تک رسائی مزید آسان ہو سکتی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف تعلیمی نظام کو زیادہ منصفانہ بنائیں گے بلکہ ایک مضبوط اور باشعور معاشرے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔