کچھ دن پہلے میں ایک سروے کر رہی تھی جو گھریلو تشدد کے حوالے سے تھا۔ اس سروے کے دوران میں بچوں سے ایک سوال پوچھتی تھی: “کیا ایک عورت کو اپنا گھر بچانے کے لیے مارپیٹ برداشت کرنی چاہیے؟”

 

مجھے اس وقت شدید حیرت ہوئی جب بہت سی بچیوں نے بلا جھجک جواب دیا: “ہاں، برداشت کرنی چاہیے۔”

 

یہ جواب سن کر میں کافی دیر تک سوچتی رہی۔ آخر ایک چھوٹی سی بچی کے ذہن میں یہ بات کیوں ڈال دی گئی ہے کہ ایک عورت کو اپنا گھر بچانے کے لیے تشدد برداشت کرنا پڑتا ہے؟ کیوں اسے یہ سکھایا جا رہا ہے کہ خاموشی ہی گھر کو جوڑے رکھ سکتی ہے؟ ایک بچی جو ابھی زندگی کی حقیقتوں سے پوری طرح واقف بھی نہیں، وہ یہ کیسے مان چکی ہے کہ عورت ہونے کا مطلب تکلیف سہنا اور خاموش رہنا ہے؟

 

یہ بھی پڑھیے: بنوں: خاتون کے پولیس پر تشدد اور غیر قانونی حراست کے مبینہ الزامات

 

حقیقت یہ ہے کہ مارپیٹ برداشت کرنا نہ بہادری ہے، نہ قربانی اور نہ ہی سمجھداری۔ یہ ایک بہت بڑی ناانصافی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی سوچ اتنی گہرائی سے جڑ چکی ہے کہ بعض اوقات ظلم کو بھی صبر اور برداشت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ 

 

بہت سی عورتیں برسوں تک صرف اس خوف سے خاموش رہتی ہیں کہ کہیں گھر نہ ٹوٹ جائے، کہیں بچوں کا مستقبل متاثر نہ ہو جائے یا کہیں لوگ انہیں قصوروار نہ ٹھہرانے لگیں۔ لیکن ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ تشدد برداشت کرنے کا سب سے زیادہ نقصان بھی انہی بچوں کو پہنچتا ہے جن کے نام پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔

 

 

ہمارے معاشرے میں عورتوں کو بچپن ہی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ گھر بسانا عورت کی ذمہ داری ہے، عورت کو ہر حال میں برداشت کرنا چاہیے اور اچھا گھر وہی ہوتا ہے جہاں عورت خاموش رہے۔ یہ جملے بظاہر عام محسوس ہوتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ بچوں کی سوچ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر وہ یہی سمجھنے لگتے ہیں کہ اگر کسی عورت کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو تو اسے خاموش رہنا چاہیے تاکہ گھر قائم رہے۔

 

لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا گھر آخر کس کام کا جہاں عزت، سکون اور تحفظ نہ ہو؟

اگر ایک عورت ہر روز خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہو، اگر اسے مارا جا رہا ہو، اس کی تذلیل کی جا رہی ہو، اس کی رائے کو اہمیت نہ دی جا رہی ہو اور اسے مسلسل ذہنی اذیت کا سامنا ہو تو کیا صرف ایک چھت کے نیچے رہنے کو گھر کہا جا سکتا ہے؟ گھر صرف دیواروں کا نام نہیں ہوتا۔

 

 گھر وہ جگہ ہوتا ہے جہاں انسان خود کو محفوظ محسوس کرے، جہاں اسے عزت ملے، جہاں اس کی بات سنی جائے اور جہاں محبت اور اعتماد موجود ہوں۔

 

گھریلو تشدد صرف جسمانی مارپیٹ تک محدود نہیں ہوتا۔ سخت اور توہین آمیز الفاظ، مسلسل ڈرانا دھمکانا، کسی عورت کی شخصیت کو مجروح کرنا، اس کی آزادی محدود کرنا یا اسے ہر وقت احساسِ کمتری میں مبتلا رکھنا بھی تشدد کی مختلف شکلیں ہیں۔

 

 بعض زخم جسم پر نظر آ جاتے ہیں، لیکن بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جو دل اور ذہن پر لگتے ہیں اور برسوں تک انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔

 

سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بچے یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ شاید کچھ نہ کہیں، لیکن ہر منظر ان کے ذہن میں محفوظ ہو رہا ہوتا ہے۔

 

 ایک مرد یہ سیکھتا ہے کہ طاقت کا مطلب دوسروں پر حاوی ہونا ہے، جبکہ ایک عورت یہ سیکھتی ہے کہ خاموشی سے ظلم سہنا ہی ایک اچھی عورت کی نشانی ہے۔ یوں ایک غلط سوچ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے اور معاشرہ اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔

 

 

ایک لمحے کے لیے اس بچی کے بارے میں سوچیں جس نے میرے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ عورت کو گھر بچانے کے لیے مارپیٹ برداشت کرنی چاہیے۔ اس بچی نے یہ بات کہیں نہ کہیں سے سیکھی ہوگی۔

 

 ممکن ہے اس نے اپنے اردگرد ایسا ماحول دیکھا ہو، ممکن ہے کسی نے اسے یہی نصیحت کی ہو یا شاید اس نے کسی عورت کو خاموشی سے ظلم سہتے دیکھا ہو۔ یہ جواب دراصل صرف ایک بچی کا جواب نہیں تھا بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک اجتماعی سوچ کی عکاسی تھا۔

 

ہمیں عورتوں کو یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ وہ ظلم برداشت کریں، بلکہ یہ سکھانا چاہیے کہ وہ اپنی عزت اور حفاظت کی اہمیت کو سمجھیں۔ انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ ان کی جان، ان کا وقار اور ان کا سکون بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی اور انسان کا۔

 

 اسی طرح ہمیں اپنے بیٹوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ طاقت کا اصل مطلب کسی کو دبانا نہیں بلکہ اپنے غصے پر قابو پانا ہے۔ احترام، برداشت، ہمدردی اور ذمہ داری وہ خوبیاں ہیں جو ایک اچھے انسان کی پہچان بنتی ہیں۔

 

اختلاف ہر رشتے کا حصہ ہوتا ہے، لیکن اختلاف کا مطلب تشدد نہیں۔ مسائل بات چیت، برداشت اور باہمی احترام سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ مضبوط رشتے وہ نہیں ہوتے جن میں اختلاف نہ ہو، بلکہ وہ ہوتے ہیں جن میں اختلاف کو سمجھداری سے سنبھالا جائے۔

 

بچوں میں خود اعتمادی  پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ جب بچے خود پر یقین رکھتے ہیں تو وہ غلط کو غلط کہنے کی ہمت رکھتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا سیکھتے ہیں۔ 

 

والدین اور اساتذہ کی یہاں اہم ذمہ داری ہے، کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے اردگرد دیکھتے اور سنتے ہیں۔ اگر گھر میں خوف اور تشدد کا ماحول ہوگا تو بچے اسے معمول سمجھیں گے، لیکن اگر گھر محبت، احترام اور سکون کا نمونہ ہوگا تو یہی خوبیاں ان کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گی۔

 

ہمیں بچوں کو یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ عورت کو ہر حال میں برداشت کرنا پڑتا ہے یا گھر بچانے کے لیے خاموش رہنا ضروری ہے۔ بلکہ انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ ہر انسان عزت اور تحفظ کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہے اور کسی بھی رشتے میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔

 

 

معاشرہ اسی وقت بدلے گا جب ہم اپنی سوچ بدلیں گے۔ عورتوں کو یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ وہ ظلم برداشت کریں، بلکہ یہ سکھانا چاہیے کہ وہ اپنی قدر پہچانیں، اپنی آواز بلند کریں اور عزت کے ساتھ جینا سیکھیں۔

 

آج ہمیں اپنے بچوں کو ایسی سوچ دینی ہوگی جہاں عورت کی عزت ہو، جہاں مرد غصے کے بجائے سمجھداری سے بات کریں اور جہاں تشدد کو کبھی بھی قابلِ قبول نہ سمجھا جائے۔ کیونکہ گھر صرف دیواروں کا نام نہیں، بلکہ وہ جگہ ہے جہاں محبت، سکون اور تحفظ ہو۔برداشت نہیں، بلکہ احترام ایک مضبوط گھر کی اصل بنیاد ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔