بنوں کے علاقے کوٹکہ جمعہ خان کی رہائشی خاتون نازمینہ بی بی نے اپنے بچوں کے ہمراہ بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر پولیس پر اپنے والد اور بھائی کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

 

نازمینہ بی بی کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں میں بعض افراد منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں، تاہم غریب ہونے کی وجہ سے ان کے خاندان کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پاکستان سے واپس افغانستان جانے والے افغان مہاجرین سے بھرا ٹرک کھائی میں جا گرا، 22 افراد جاں بحق

 

 انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے بھائی شوکت علی کو ماضی میں بھی منشیات کے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا تھا جبکہ پولیس متعدد بار ان کے گھر پر چھاپے مار چکی ہے۔

 

انہوں نے الزام لگایا کہ حال ہی میں تھانہ صدر کے ایس ایچ او اللہ نواز خان پولیس نفری کے ہمراہ ان کے بھائی شوکت علی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر گئے۔

 

 ان کے مطابق بھائی کی بازیابی کے لیے انہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالتی بیلف کے ہمراہ تھانے پہنچیں، تاہم پولیس اہلکار مبینہ طور پر ان کے بھائی کو گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے لے گئے۔

 

نازمینہ بی بی نے بتایا کہ بعد ازاں انہیں اطلاع دی گئی کہ ان کے بھائی کو رہا کیا جا رہا ہے، جس پر وہ اپنے والد نواز خان کے ہمراہ تھانے پہنچیں، تاہم وہاں ان کے والد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

 

خاتون نے دعویٰ کیا کہ ان کے سامنے ان کے والد اور بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار گرفتار افراد کو ہراساں کرنے کے لیے سانپ استعمال کرتے ہیں، جسے انہوں نے ظلم و زیادتی کی انتہا قرار دیا۔

 

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پولیس ان کے دو موبائل فون اور ہزاروں روپے نقدی بھی اپنے قبضے میں لے چکی ہے۔ ان کے بقول موبائل فونز میں ان کے گھر سے متعلق اہم ویڈیوز موجود ہیں۔

 

نازمینہ بی بی نے خیبرپختونخوا حکومت، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے والد اور بھائی کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔

 

واضح رہے کہ یہ تمام الزامات نازمینہ بی بی نے پریس کانفرنس کے دوران عائد کیے ہیں، جبکہ اس حوالے سے پولیس کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔