پشاور ہائی کورٹ نے افغان شہریوں کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ درخواست گزاروں کو ہراساں نہ کیا جائے اور انہیں افغانستان واپس نہ بھیجا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: رواں سال کے پہلے تین ماہ میں دہشتگردی کے کتنے واقعات رپورٹ ہوئے؟
درخواست گزاروں کے وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکلین وہ افراد ہیں جنہوں نے افغانستان میں سابق امریکی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ مختلف پروگرامز کے تحت کام کیا تھا اور وہ اس وقت تیسرے ممالک میں منتقلی کے منتظر ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں افغان مہاجرین کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث درخواست گزاروں کو گرفتاری، حراست اور افغانستان واپسی کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
وکیل کے مطابق درست ویزا رکھنے والے افراد کو بھی بعض اوقات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حراست میں لیا جا رہا ہے، جس سے متاثرہ افراد میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کیس کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عبوری حکم جاری کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ درخواست گزاروں کو ہراساں نہ کیا جائے اور انہیں افغانستان واپس نہ بھیجا جائے تا حکمِ ثانی۔
درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایسے اقدامات ان کے بنیادی آئینی حقوق، بالخصوص زندگی اور انسانی وقار کے تحفظ کے منافی ہیں، جبکہ واپسی کی صورت میں انہیں سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
یہ آئینی درخواستیں عدالت کے ڈویژن بینچ جسٹس وقار احمد اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل بینچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کی گئیں۔
