خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے متعلق سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران صوبے بھر میں مجموعی طور پر 475 دہشتگردی کے کیسز درج کیے گئے۔
سنٹرل پولیس آفس (سی پی او) کے مطابق اس عرصے میں 161 فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 70 ڈرون حملے بھی ریکارڈ کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: خواجہ سراؤں کے قاتل اصل سزا سے کیوں بچ نکلتے ہیں؟
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین ماہ کے دوران بارودی مواد کے 54 دھماکے اور 27 دستی بم حملے ہوئے۔ اسی طرح بھتہ خوری کے 28 اور اغواء کے 9 واقعات بھی رپورٹ کیے گئے۔
سی پی او کے مطابق رواں سال کے ابتدائی تین ماہ میں 32 ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آئے جبکہ 3 خودکش حملے بھی رپورٹ ہوئے۔
اضافی اعداد و شمار کے مطابق بنوں میں دہشتگردی کے 92 سے زائد واقعات، شمالی وزیرستان میں 88 واقعات، ڈیرہ اسماعیل خان میں 65 اور پشاور میں 44 واقعات رپورٹ کیے گئے۔
سی پی او کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے پولیس کو جدید اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کی گئی ہے تاکہ سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
