پشاور میں خواجہ سراؤں کی گرو فرزانہ کے مطابق 2015 سے اب تک 120 کے قریب خواجہ سراؤں کو قتل کیا جا چکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے ملزمان کو گرفتار تو کر لیا جاتا ہے، لیکن حقیقی معنوں میں آج تک کسی بھی قاتل کو وہ سزا نہیں ملی جو ایک قاتل کو ملنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا اسمبلی: مخصوص نشستوں پر منتخب خواتین اور اقلیتی ارکان کو اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں
فرزانہ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ان وارداتوں میں ملوث افراد کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں۔ انہیں یہ احساس ہو چکا ہے کہ ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے والا موجود نہیں، اس لیے وہ بلا خوف و خطر ہمارے لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں۔
ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے فرزانہ نے بتایا کہ تقریباً پانچ روز قبل ان کے ایک اور ساتھی سارہ کو پرویز اور اقبال پلازہ کے درمیان بے دردی سے قتل کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔
پولیس کا اس کیس کے حوالے سے کہنا ہے کہ سارہ کے قاتلوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہم پولیس کی اس کوشش کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم افسوس ناک امر یہ ہے کہ آج تک کسی بھی ملزم کو وہ سزا نہیں ملی جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔
گرو فرزانہ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے کبھی بھی خواجہ سرا کمیونٹی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان کے مطابق خواجہ سرا بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، اور جب تک انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور ان کے حقوق فراہم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک ان کے ساتھی اسی طرح قتل ہوتے رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث خواجہ سرا برادری شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔
پہلے کبھی کبھار کوئی ایک واقعہ پیش آتا تھا، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ یہ واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ آئے روز ان میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو ان کی برادری کے لیے ایک نہایت تشویشناک اور لمحہ فکریہ صورتحال ہے۔
