بنوں میں بکاخیل اقوام کے عمائدین نے سب ڈویژن وزیر کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر اشتیاق خان کے ساتھ ایک اہم جرگہ منعقد کیا، جس میں سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے اور مقامی افراد کو ملازمتوں کی فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جرگہ کے دوران سی پیک سرکلر روڈ، گیس پائپ لائن اور نہری منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی زمینوں کے معاوضے کی عدم ادائیگی اور مقامی افراد کو روزگار نہ ملنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے:خیبر میں دل دہلا دینے والا واقعہ، نومولود بچے کی لاش قبر سے کس نے نکالی؟
شرکاء کا کہنا تھا کہ سی پیک سرکلر روڈ کے لیے حاصل کی گئی اراضی کا گزشتہ چار برسوں سے معاوضہ ادا نہیں کیا گیا، جبکہ مقامی افراد کو وعدوں کے باوجود ملازمتیں بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
مزید بتایا گیا کہ ٹوچی سے باران ڈیم تک نہر اور گیس پائپ لائن کے 27 کلومیٹر حصے کے لیے حاصل کی گئی اراضی کا معاوضہ بھی تاحال ادا نہیں ہوا۔ شرکاء کے مطابق گیس پائپ لائن منصوبے میں 39 افراد کو ملازمتیں دی گئیں، تاہم اس عمل میں مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
جرگہ میں بکاخیل ڈگری کالج میں پانچ آسامیوں کی عدم فراہمی اور بکاخیل ایئرپورٹ سے متعلق معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ ایئرپورٹ کے لیے زمین کی فراہمی کے وقت سرکاری ملازمتوں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
عمائدین نے واضح کیا کہ مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن فورم سے رجوع کریں گے۔
جرگہ ملک کاکان کی نگرانی میں منعقد ہوا، جس میں بکاخیل اقوام کی شاخوں سردی خیل، تختی خیل اور نرمی خیل کے عمائدین کے علاوہ ممند خیل اور جانی خیل اقوام کے مشران نے شرکت کی، جبکہ ملک مویز خان، معصوم وزیر سمیت دیگر مشران نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
اس موقع پر امیر شفیع الرحمان، محمد علی، رسول زمان، ملک عبداللہ اور ملک اسد خان بھی موجود تھے۔
