عید خوشیوں، آسانی اور باہمی ہمدردی کا پیغام لے کر آتی ہے، مگر طورخم سرحد پر ان دنوں بہت سے افغان خاندان ایسے بھی ہیں جن کی عید سفر، غیر یقینی صورتحال اور واپسی کی تیاریوں میں گزر رہی ہے۔
خواتین، بچے اور بزرگ اپنے گھریلو سامان کے ساتھ افغانستان واپس جا رہے ہیں، جبکہ کئی خاندان مستقبل کے حوالے سے فکرمند دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال اہم بنتا جا رہا ہے کہ کیا مذہبی تہواروں کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عارضی سہولت دی جا سکتی ہے تاکہ متاثرہ خاندان نسبتاً سکون اور وقار کے ساتھ اپنے فیصلے کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے ذہنی دباؤ بننے والا سوال: “اولاد کی کوئی خوشخبری ہے؟”
اس حوالے سے خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے صحافی مہراب شاہ آفریدی کے مطابق گزشتہ 45 دنوں کے دوران تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار افغان باشندے طورخم بارڈر کے راستے افغانستان واپس جا چکے ہیں، جبکہ 2023 سے اب تک تقریباً 25 لاکھ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ اوسطاً 4 ہزار افراد اپنے وطن واپس جا رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ عید کے اعلان کے بعد بھی واپسی کے عمل میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی اور روزانہ کی اوسط تقریباً برقرار ہے۔
ان کے مطابق واپس جانے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں کیونکہ زیادہ تر خاندان، خاندانوں کی صورت میں افغانستان واپس جا رہے ہیں۔ طورخم بارڈر پر روزانہ سینکڑوں گاڑیاں اپنے اہلِ خانہ اور سامان کے ساتھ افغانستان کی جانب روانہ ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

مہراب شاہ آفریدی کے مطابق سب سے زیادہ افغان باشندے پنجاب سے واپس جا رہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں سے بھی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
سرکاری معلومات کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد متعدد خاندان رضاکارانہ طور پر واپس جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرحلہ وار واپسی کا عمل جاری رہے گا۔ مختلف سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت 15 سے 18 لاکھ کے درمیان غیر قانونی افغان باشندے موجود ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن احسان احمدزئی کہتے ہیں کہ عید کے موقع پر موجودہ صورتحال کے باعث افغان خاندانوں میں بے یقینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔
ان کے مطابق بزرگ افراد محفوظ اور باوقار واپسی کی بات کرتے ہیں، نوجوان تعلیم اور روزگار کے تسلسل کے حوالے سے فکر مند ہیں، جبکہ خواتین بچوں کی تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار کر رہی ہیں۔
احسان احمدزئی کے مطابق اس وقت افغان خاندان قانونی دستاویزات، رہائش، روزگار، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عید جیسے موقع پر یہ مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں کیونکہ بہت سے خاندان اپنی جمع پونجی سفر اور منتقلی کے اخراجات پر خرچ کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ بچوں اور خواتین میں ذہنی دباؤ اور بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور کئی خاندان عید کی تیاریوں کے بجائے مستقبل کے فیصلوں میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان واپس جانے والے کئی خاندانوں کو وہاں رہائش، روزگار اور بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
احسان احمدزئی کا کہنا ہے کہ عید اور اس کے بعد کچھ عرصے کے لیے انسانی بنیادوں پر عارضی سہولت دی جا سکتی ہے تاکہ خاندان بہتر تیاری اور وقار کے ساتھ اپنے فیصلے کر سکیں۔ ان کے مطابق خواتین، بچوں، بیمار افراد اور طلبہ کے لیے خصوصی سہولت کی ضرورت ہے تاکہ مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

اسلامی شریعت بھی مذہبی تہواروں کے دوران نرمی، آسانی اور انسانی ہمدردی کا درس دیتی ہے۔
سوات سے تعلق رکھنے والے مولوی معاذ اللہ کہتے ہیں کہ اسلامی شریعت میں پناہ، امان اور مہاجرین کے تحفظ کے واضح اصول موجود ہیں۔مولوی معاذ اللہ کے مطابق عید کا بنیادی پیغام خوشی، آسانی اور باہمی رحم ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات ایسے مواقع پر کمزور طبقات کے لیے سہولت پیدا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں، اسی لیے خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے عارضی سہولت یا مہلت دینا اسلامی مزاج کے مطابق سمجھا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق اسلام ریاستی قوانین کے احترام کی تعلیم دیتا ہے، مگر اس کے ساتھ انسانی وقار اور نرم رویے پر بھی زور دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ واپسی کا عمل ضروری ہے، تاہم مذہبی تہواروں کے دوران عارضی مہلت دی جا سکتی ہے تاکہ خاندان نسبتاً آسانی اور وقار کے ساتھ اپنے معاملات مکمل کر سکیں۔
ماہرینِ قانون کے مطابق بین الاقوامی اصول بھی حساس حالات میں انسانی وقار، خاندانی تحفظ اور نرم رویے کی گنجائش دیتے ہیں۔
اسی تناظر میں پشاور ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ ملک صدام حسین کہتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون میں مہاجرین کے حوالے سے انسانی وقار اور خاندانی تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
ان کے مطابق عالمی اصولوں کے تحت کسی بھی فرد کو ایسے حالات میں واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اسے غیر معمولی مشکلات یا غیر انسانی صورتحال کا سامنا ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ مختلف ممالک مذہبی تہواروں یا غیر معمولی حالات میں انتظامی سطح پر عارضی نرمی اختیار کرتے رہے ہیں تاکہ کمزور خاندان فوری مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔
ایڈوکیٹ ملک صدام حسین کے مطابق اگرچہ پاکستان عالمی مہاجر کنونشن کا باقاعدہ رکن نہیں، تاہم انسانی حقوق سے متعلق مختلف بین الاقوامی معاہدوں کے تحت انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری موجود ہے۔

ان کے مطابق ریاست کو اپنی قومی پالیسی برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن اس کے ساتھ انسانی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ خواتین، بچوں، بیمار افراد اور دستاویزی حیثیت رکھنے والے افراد کے لیے عید کے موقع پر محدود انسانی سہولت یا مرحلہ وار واپسی کا طریقۂ کار اختیار کیا جا سکتا ہے، جس سے قانون اور انسانی ہمدردی دونوں کے تقاضوں میں توازن پیدا ہو سکتا ہے۔
ملک صدام حسین کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی تہواروں یا حساس حالات کے دوران انتظامی بنیادوں پر عارضی مہلت کی مثالیں موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت عید کے موقع پر مختصر مدت کے لیے عارضی سہولت، مرحلہ وار واپسی یا رجسٹریشن میں آسانی فراہم کرتی ہے تو اسے قانونی اور انسانی دونوں زاویوں سے متوازن قدم سمجھا جا سکتا ہے۔
عید کے موقع پر افغان خاندانوں کی صورتحال ایک ایسے سوال کو جنم دے رہی ہے جس کا تعلق صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ انسانیت، رحم اور اجتماعی ذمہ داری سے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قانون کے ساتھ ساتھ انسانی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ متاثرہ خاندان اس مرحلے سے نسبتاً سہولت، احترام اور وقار کے ساتھ گزر سکیں۔
