خیبرپختوا کے قبائلی ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں 25 روزہ نومولود بچے کی لاش قبرستان سے غائب ہو گئی، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

 

مقامی لوگوں کے مطابق یہ واقعہ تحصیل باڑہ کے علاقے شلوبر میں واقع نوگزی بابا قبرستان میں پیش آیا، جہاں بچے کو 3 اپریل کو سپردِ خاک کیا گیا تھا۔ لواحقین جب بعد ازاں قبرستان پہنچے تو قبر کھلی ہوئی تھی جبکہ نومولود کی لاش غائب تھی، البتہ کفن قبر کے قریب پڑا ہوا تھا۔

 

نومولود کے رشتہ دار علی حیدر آفریدی نے ٹی این این کو بتایا کہ  انہیں معلوم نہیں ہو سکا کہ لاش کو کب اور کیسے نکالا گیا، تاہم جائے وقوعہ پر موجود شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ کسی انسان کا عمل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قبر کے قریب انسانی قدموں اور خاتون کی چپل کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ کسی جانور کے ملوث ہونے کے آثار نہیں ملے۔

 

 یہ بھی پڑھیں:  خیبر پختونخوا میں بارشوں سے تباہی، اب تک کتنے افراد جاں بحق ہو چکے ہیں؟ پی ڈی ایم اے نے رپورٹ جاری کر دی

 

ادھر تھانہ باڑہ کے ایس ایچ او جاوید آفریدی کا کہنا ہے کہ پولیس کو اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئی تھی اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی باقاعدہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

 

دینی رہنما باڑہ  کے رہایشی  مولانا شمس الحق آفریدی نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں ایسے غیر انسانی افعال کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض عناصر نومولود بچوں کی لاشوں کو غیر اخلاقی مقاصد، جیسے کالا جادو، کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

 

واقعے کے بعد علاقے کے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔