ہمارے معاشرے میں ایک اچھی روایت ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔
خوشی کے موقع پر مبارکباد دینا اور دکھ کے وقت ساتھ دینا ایک خوبصورت انسانی رویہ ہے۔ لیکن بعض اوقات یہی روایت اس وقت تکلیف دہ بن جاتی ہے جب ہم دوسروں کی ذاتی زندگی میں غیر ضروری طور پر دخل دینا اپنا حق بلکہ فرض سمجھ لیتے ہیں۔
اس کی ایک عام اور افسوسناک مثال یہ ہے کہ نئے شادی شدہ جوڑے کی شادی کے چند دن بعد ہی رشتے دار اور دوست یہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں: “کوئی خوشخبری ہے؟”
بظاہر یہ سوال بہت معصوم، محبت بھرا اور اپنا پن ظاہر کرنے والا لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک ایسا سماجی دباؤ چھپا ہوتا ہے جو نئے شادی شدہ جوڑے کے لیے ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی اذیت بن جاتا ہے۔ اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو خود اس مرحلے سے گزر رہے ہوں۔
یہ بھی پڑھیے: ملک بھر میں سونا سستا ہوگیا، فی تولہ قیمت کتنی ہوگئی؟
شادی کے کچھ ہی ہفتوں یا مہینوں بعد یہ سوال صرف سوال نہیں رہتا، بلکہ طعنوں، اشاروں کنایوں اور “ہمدردی” کے نام پر کی جانے والی زہریلی گفتگو میں بدل جاتا ہے۔ یہ رویہ آہستہ آہستہ میاں بیوی کے تعلقات کو بھی متاثر کرتا ہے اور ان کے درمیان غیر ضروری دباؤ پیدا کر دیتا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ نشانہ اکثر خواتین بنتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اولاد میں تاخیر کی ذمہ داری تقریباً ہمیشہ عورت پر ڈال دی جاتی ہے۔ سسرال کے طعنے، نندوں اور ساس کی معنی خیز نظریں، اور خاندانی محفلوں میں ہونے والی سرگوشیاں عورت کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہیں۔
بعض اوقات اسے یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ شاید اس میں ہی کوئی مسئلہ ہے یا اس نے “غلط وقت میں اس گھر میں قدم رکھا تھا”۔ کچھ لوگ حد سے بڑھ کر یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ اگر یہی صورتحال رہی تو مرد کی دوسری شادی کرنی پڑے گی کیونکہ “وارث چاہیے ہوتا ہے”۔
یہ دباؤ صرف عورت تک محدود نہیں رہتا، مرد بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر شادی کے بعد جلد اولاد نہ ہو تو معاشرہ فوراً مرد کی اہلیت اور مردانگی پر سوال اٹھانا شروع کر دیتا ہے، جو اس کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔

مردانگی کو اولاد سے جوڑ دینا ایک غیر سائنسی اور غلط سوچ ہے، جو مرد کو اندر سے کمزور کر دیتی ہے۔ اس دباؤ سے کئی مرد احساسِ کمتری اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کا اثر ان کی زندگی، تعلقات اور صحت پر بھی پڑتا ہے۔
ماہرین نفسیات کے مطابق دوسروں کی زندگیوں میں غیر ضروری مداخلت ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ ہے۔ “خوشخبری ہے یا نہیں” جیسے سوال نئے شادی شدہ جوڑے کے لیے ذہنی دباؤ، بے چینی اور تعلقات میں کشیدگی پیدا کرتے ہیں، جو بعض اوقات ڈپریشن اور شدید ذہنی مسائل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
جب ایک جوڑا پہلے ہی ایک نئے ماحول میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور اپنے رشتے کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، تو ایسے سوال ان کے درمیان فاصلے پیدا کر دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر جوڑے کے حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے اولاد کا فیصلہ ایک مکمل طور پر ذاتی معاملہ ہے جس میں کسی تیسرے شخص کی مداخلت مناسب نہیں۔
بہت سے جوڑے مالی حالات، تعلیم یا کیریئر کی وجہ سے انتظار کرتے ہیں، جبکہ بعض اوقات اولاد میں تاخیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے جس میں انسان کا کوئی اختیار نہیں۔
گائناکالوجسٹ کے مطابق اولاد میں تاخیر کی کئی طبی وجوہات ہو سکتی ہیں جو مرد اور عورت دونوں سے متعلق ہوتی ہیں، جیسے ہارمونی مسائل، جسمانی کمزوریاں، تولیدی مسائل، ذہنی دباؤ اور غیر صحت مند طرزِ زندگی۔
مسلسل ذہنی دباؤ جسم میں ایسے ہارمونز پیدا کرتا ہے جو حمل کے عمل کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں، اس لیے ایسے جوڑوں کے لیے پرسکون اور سپورٹ کرنے والا ماحول بہت ضروری ہوتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی زندگیوں کا احترام کریں۔ غیر ضروری سوالات اور تبصرے کسی کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بن سکتے ہیں۔
اصل انسانیت یہی ہے کہ ہم دوسروں کو سکون دیں، نہ کہ ان کی تکلیف کا سبب بنیں۔ خاموشی اور احترام بعض اوقات سب سے بڑی ہمدردی ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
