زالان خان آفریدی 

 

ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں طورخم بارڈر بندش اور افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرانسپورٹرز، ڈرائیورز، طلبہ اور تاجروں کو درپیش مشکلات کے خلاف جامع مسجد قباء جرگہ ہال میں گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس، ٹرانسپورٹرز اور مقامی مشران نے شرکت کی۔

 

جرگے کے بعد شرکاء نے پاک افغان شاہراہ پر احتجاجی ریلی بھی نکالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے افغانستان میں پھنسے پاکستانی شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، تاہم ان کی واپسی کیلئے تاحال مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

 

شرکاء نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ عید کے تیسرے روز کے بعد تمام سیاسی جماعتیں، ٹرانسپورٹرز اور متعلقہ تنظیمیں مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گی۔

 

 انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاک افغان شاہراہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو پابندی سرکاری اہلکاروں اور سرکاری گاڑیوں پر بھی لاگو ہوگی۔

 

یہ بھی پڑھیں: کیا عید کے موقع پر افغان خاندانوں کو مہلت دی جا سکتی ہے؟

 

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے شاہ رحمان شینواری نے کہا کہ آئین کی وہ شقیں فوری نافذ کی جاتی ہیں جن سے حکمران طبقے کو فائدہ ہو، جبکہ عوامی مفاد کی شقوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طورخم بارڈر پر روزگار صدیوں سے مقامی لوگوں کا حق ہے اور دوطرفہ تجارت سے علاقے کے عوام مستفید ہوتے ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی قیادت عوام میں شعور پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے تمام اقوام کو متحد ہوکر بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔

 

 مقررین نے واضح کیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرکوں، ڈرائیوروں اور دیگر شہریوں کو وطن واپسی کی اجازت نہیں ملتی۔