سوشل میڈیا  نوجوان لڑکیوں کے لیے رابطے، تعلیم،  اور اظہارِ رائے کا اہم ذریعہ بن چکا ہے، لیکن اسی دنیا میں ایک خاموش مگر سنگین خطرہ بھی موجود ہے۔ جعلی شناختیں، اعتماد کا غلط استعمال، اور نجی تصاویر یا معلومات کے ذریعے بلیک میلنگ کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد بھی اصل متاثرین کی تعداد سے کم ہو سکتی ہے کیونکہ کئی لڑکیاں خوف، خاندانی دباؤ یا اعتماد کی کمی کی وجہ سے شکایت درج نہیں کراتیں۔

 

کراچی کے علاقے بنارس سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ  اسماء بتاتی ہے  کہ ایک شادی کی تقریب میں انہوں نے رقص کیا تھا، اور چند دن بعد انہیں نامعلوم نمبر سے انکی رقص کی ویڈیو موصول ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں


"میں بہت پریشان تھی۔ وہ شخص بار بار دھمکی دیتا تھا کہ اگر میں اس کی بات نہ مانوں تو یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دوں گا۔ مجھے رات دو بجے کال کرنے پر مجبور کرتا۔ شروع میں خوف کی وجہ سے میں نے بات سب سے چھپا کر رکھی، لیکن بعد میں میں نے اپنی استاد کو بتایا، جس نے بلیک میلر سے رابطہ کیا اور مسئلہ حل ہو گیا۔ پھر بھی دن بھر مختلف نمبروں سے کالز آتی رہیں، اور خوف کی وجہ سے مجھے اپنے  سم  کو بلاک کرنا پڑا”۔

 


اسی طرح سوات کے کالام سے تعلق رکھنے والی فاطمہ نے بتایا کہ ایک شخص بلاوجہ انہیں تنگ کرتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ ان کے بھائی نے اسے ان پر نظر رکھنے کا کہا ہے۔ فاطمہ بتاتی ہیں:
"وہ کہتا تھا کہ میری واٹس ایپ اور فون کا ڈیٹا اس کے پاس ہے۔ وہ مجھ سے جعلی اکاؤنٹس بنانے اور میری تصاویر پھیلانے کا کہتا تھا۔ میں نے اپنی والدہ اور استاد سے بات کی، اور انہوں نے بلیک میلر کو سمجھایا۔ پھر بھی میں خوف میں ہوں اور اکیلے باہر جانا مشکل لگتا ہے"۔


فاطمہ  کی مطابق وہ ایف آئی آر درج کروانا چاہتی تھیں، لیکن بدنامی کے خوف اور خاندان کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

 

 

ایف آئی اے  (  پاکستان کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ہے )اسلام آباد کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے ساتھ سائبر کرائم کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 
ایف آئی اے اسلام آباد کا کارندہ محمد اسحاق  کہتےہیں کہ ، گزشتہ برسوں میں سائبر ہراسگی اور بلیک میلنگ کے کیسز میں 50 سے 100 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، اور سب سے زیادہ کیسز واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام سے متعلق ہوتے ہیں۔

 


حالیہ برسوں میں مجموعی طور پر 2473 نئی سائبر ہراسگی کی شکایات موصول ہوئیں، جن میں 58.5 فیصد متاثرین خواتین تھیں۔ اسی طرح 2695 شکایات موصول ہوئیں، جن میں 84 فیصد شکایات  ہراسگی سے متعلق تھیں، اور 58.6 فیصد خواتین کی جانب سے درج کرائی گئیں۔

محمد اسحاق کے مطابق  سائبر بلیک میلرز عموماً پہلے اعتماد حاصل کرتے ہیں، ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور پھر نجی معلومات یا تصاویر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ فریب کی ویب سائٹس کے ذریعے لاگ ان کے پاسورڈز چوری کرتے ہیں، یا کسی دوست کا جعلی اکاؤنٹ بنا کر بات کرتے ہیں تاکہ لڑکی شک نہ کرے۔ اکثر کیسز میں جاننے والے لوگ، جیسے دوست، کلاس فیلو یا رشتہ دار زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں کیونکہ انہیں پہلے سے معلومات معلوم ہوتی ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ کی چند سیکنڈ کی ویڈیو کسی کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟

 

 


محمد اسحاق نے مزید بتایا کہ لڑکیوں کو سب سے پہلے یہ کرنا چاہیے کہ گھبرائیں نہیں، کسی بھی قسم کی ادائیگی نہ کریں، اور مزید بات چیت بند کریں۔ انہیں اپنے والدین یا کسی قابل اعتماد شخص کو آگاہ کرنا چاہیے اور فوراً ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو رپورٹ کرنا چاہیے۔ ثبوت محفوظ کرنا بھی ضروری ہے: سکرین شاٹس، چیٹس، ویڈیوز، پروفائل لنکس، کال لوگز، اور اگر کوئی پیسہ مانگا گیا ہو تو اس کے ریکارڈ بھی محفوظ رکھیں۔ بلاک کرنے یا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے سے پہلے یہ ثبوت محفوظ کرنا لازمی ہے۔

 

 

ماہرین کے مطابق خاندانی دباؤ اور سماجی رویے اکثر متاثرہ لڑکیوں کی رپورٹنگ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیاایکسپرٹ، اور دامان - ٹی وی کی کو فاونڈر نصرت گنڈا پور ، کے مطابق سوشل میڈیا پر خواتین کے ساتھ ہونے والی ہراسگی کا مسئلہ نہ صرف انفرادی بلکہ معاشرتی نوعیت کا بھی ہے۔ وہ بتاتے ہیں: "سائبر ہراسگی صرف لڑکیوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین کے نام سے منسلک کسی بھی اکاؤنٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اکثر عورت کی ذاتی معلومات یا تصاویر کا غلط استعمال کرنا ہوتا ہے۔ آن لائن دنیا میں عورت کی رسائی جتنی وسیع ہوتی ہے، اتنے خطرات بڑھ جاتے ہیں، چاہے وہ شخص کسی دوسرے ملک میں ہی کیوں نہ ہو۔"


نصرت گنڈاپور مزید کہتے ہیں: "ہمارے معاشرے میں خاندانی دباؤ اور سماجی رویے اکثر متاثرہ لڑکیوں کی رپورٹنگ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ خواتین اکثر شکایت درج کروانے سے گھبراتی ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کے لیے ذاتی اور سماجی زندگی مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے بروقت آگاہی اور تعلیم بہت ضروری ہے تاکہ لڑکیاں اپنے حقوق جان سکیں اور محفوظ رہ سکیں۔

 

 

 

سوشل میڈیا پر نوجوان لڑکیاں اکثر اپنے معمولات اور آن لائن سرگرمیوں کے دوران کچھ عام تکنیکی غلطیوں کی وجہ سے بلیک میلرز اور ہیکرز کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہ غلطیاں نہ صرف ذاتی معلومات کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ انہیں ذہنی دباؤ اور خوف کا بھی شکار بنا دیتی ہیں۔


ماہر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن عدنان مہمند کے مطابق نوجوان لڑکیاں اکثر تکنیکی غلطیوں کی وجہ سے ہیکرز اور بلیک میلرز کا نشانہ بنتی ہیں، جیسے اپنی پروفائل پرائیویسی سیٹنگز کو نظرانداز کرنا، مشکوک لنکس پر کلک کرنا، نجی زندگی کے بارے میں معلومات دینا، اسان پاسورڈ استعمال کرنا، اور اجنبی فرینڈ ریکوئسٹ قبول کرنا۔ ہیکرز اکثر لمبے عرصے تک دوستی کرتے ہیں، ہمدردی جتاتے ہیں، اور پھر نجی معلومات یا تصاویر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر کسی لڑکی کو شک ہو کہ اس کی معلومات غلط استعمال ہو رہی ہیں تو فوری اقدامات میں پاسورڈ تبدیل کرنا، دو مرحلہ تصدیق آن کرنا، اپنی فرینڈ لسٹ اور پرائیویسی سیٹنگز چیک کرنا، نامعلوم ڈیوائسز سے لاگ آؤٹ کرنا، اور غیر تصدیق شدہ ایپ انسٹال نہ کرنا شامل ہیں۔ اپنے اکاؤنٹ کو ہمیشہ لاک رکھیں، صرف جان پہچان والے لوگوں کو شامل کریں، ہر ایپ کی اجازتوں کا جائزہ لیں، اور اپنی تصاویر غیر محفوظ سائٹس یا ایپس پر نہ اپ لوڈ کریں۔


اکثر لڑکیاں خوف میں آ کر اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیتی ہیں، جو ایک غلطی ہے کیونکہ اس سے ثبوت ختم ہو جاتے ہیں۔ درست طریقہ یہ ہے کہ سکرین شاٹس لیں، پروفائل کے لنکس محفوظ کریں، چیٹس ڈیلیٹ نہ کریں، اور اگر ممکن ہو تو سکرین ریکارڈنگ بھی محفوظ کریں۔ پلیٹ فارم پر رپورٹ کریں اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہیلپ لائن 1991 یا ویب سائٹ کے ذریعے شکایت درج کروائیں۔ کسی بھی قسم کی ادائیگی یا بلیک میلر کی شرط قبول نہ کریں۔ اگر کبھی ایسی صورتحال پیش آئے تو کسی بڑے یا اعتماد والے شخص سے بات کرنے میں ہرگز ہچکچائیں نہیں۔ کیونکہ خاموشی بلیک میلر کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

 


 یاد رکھیں کہ آپ کی معلومات اور تصاویر کی حفاظت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی بھی مشکوک صورتحال میں فوراً اعتماد والے شخص سے بات کریں اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو رپورٹ کریں۔ خاموشی بلیک میلر کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، اور آگاہی، احتیاط اور بروقت اقدام ہی محفوظ آن لائن زندگی کی ضمانت ہیں۔