سوشل میڈیا نے ہماری روزمرہ زندگی کو تقریباً مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ہمارے رہنے سہنے، سوچنے کے انداز اور وقت گزارنے کے طریقوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان پلیٹ فارمز میں ٹک ٹاک نے نوجوان نسل کو اپنی طرف بے حد متوجہ کیا ہے۔

 

 چند سیکنڈ کی ویڈیوز، میوزک، فلٹرز اور وائرل ہونے کی خواہش نے اس پلیٹ فارم کو غیر معمولی حد تک مقبول بنا دیا ہے۔ آج ہر دوسرا نوجوان ہاتھ میں موبائل لیے ویڈیو بناتا دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام اور معصوم سرگرمی لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک سنجیدہ مسئلہ چھپا ہوا ہے، اور وہ ہے دوسروں کی نجی زندگی کا خیال نہ رکھنا۔

 

آج کل یہ ایک عام بات بن چکی ہے کہ لوگ کسی بھی عوامی مقام پر کھڑے ہو کر ویڈیو بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ان کے اردگرد موجود لوگ بھی کیمرے میں آ سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ لوگ کسی بھی صورت اپنی ویڈیو یا تصویر سوشل میڈیا پر نہیں دیکھنا چاہتے ہوں۔ 

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر و لوئر دیر: صحافیوں پر حملے، ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ

 

کسی کی اجازت کے بغیر اس کی ویڈیو بنانا اور اسے اپلوڈ کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ بعض حالات میں یہ قانونی مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔ ہر انسان کو اپنی نجی زندگی کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

 

اگر ہم شاپنگ مالز کی باتد کریں تو وہاں کا ماحول پہلے ہی کافی مصروف ہوتا ہے۔ لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں، لوگ اپنے بچوں کے ساتھ گھوم رہے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ سکون سے بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہوتے ہیں۔

 

 ایسے میں اگر کوئی شخص اچانک کیمرہ آن کر کے وڈیو بنانا شروع کر دے تو اردگرد موجود افراد بھی اس ویڈیو کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ شاید کسی ذاتی وجہ سے وہاں موجود ہوں یا نہیں چاہتے کہ ان کی موجودگی سوشل میڈیا پر ظاہر ہو۔ لیکن چند سیکنڈ کی ایک ویڈیو ان کی مرضی کے بغیر انہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کے سامنے لے آتی ہے۔

 

ریسٹورنٹس میں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ لوگ کھانے سے پہلے پلیٹ سجانے کے بجائے کیمرہ سیٹ کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ویڈیو بناتے وقت پیچھے بیٹھے دوسرے لوگ صاف نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ 

 

بعض اوقات ان کی گفتگو بھی ریکارڈ ہو جاتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ذاتی یا کاروباری گفتگو کر رہا ہو اور وہ ویڈیو کے ذریعے عام ہو جائے تو اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟ کیا ہم صرف چند لائکس اور ویوز کے لیے کسی کی نجی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں؟

 

یہاں تک کہ بی آر ٹی بس اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی ویڈیوز بنانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگ سفر کے دوران تھکے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ موبائل استعمال کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ خاموشی سے بیٹھے سفر کر رہے ہوتے ہیں۔

 

 اگر کوئی شخص اچانک ویڈیو بنانا شروع کر دے اور پوری بس کا منظر سوشل میڈیا پر ڈال دے تو اس میں موجود ہر فرد غیر ارادی طور پر اس ویڈیو کا حصہ بن جاتا ہے۔

 

 خاص طور پر خواتین اور طالبات کے لیے یہ صورتحال پریشان کن ہو سکتی ہے۔ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سفر کے دوران سکون اور تحفظ محسوس کرے۔

 

اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی دوڑ نے ہمیں دوسروں کے احساسات سے دور کر دیا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کیمرے کے پیچھے بھی انسان ہیں اور کیمرے کے سامنے بھی انسان۔

 

 اگر ہماری ویڈیو کسی کو شرمندگی، خوف یا ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دے تو کیا اسے کامیابی کہا جا سکتا ہے؟ وقتی شہرت چند دنوں کی ہوتی ہے، لیکن اس کے اثرات بعض اوقات بہت دیر تک لوگوں کی زندگیوں پر باقی رہتے ہیں۔

 

ہمیں بطور معاشرہ اور بطور انسان یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اگر ہم ویڈیو بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے زاویے کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں دوسرے لوگ واضح طور پر نظر نہ آئیں۔ 

 

اگر کوئی شخص فریم میں آ بھی جائے تو اس سے اجازت لینا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ آج کل موبائل ایپس میں چہرہ دھندلا (بلر) کرنے کا آپشن بھی موجود ہے جسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل اخلاقیات کے بارے میں آگاہ کریں۔ اسکولوں اور کالجوں میں بھی اس موضوع پر بات ہونی چاہیے تاکہ نوجوان یہ سمجھ سکیں کہ آن لائن دنیا میں بھی وہی اصول ہونے چاہئیں جو حقیقی زندگی میں ہوتے ہیں۔ کسی کی عزت یا نجی زندگی کو نظر انداز کرنا کسی بھی صورت درست نہیں۔

 

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مہذب معاشرہ باہمی احترام سے بنتا ہے۔ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے اور اسے مثبت طریقے سے استعمال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نجی زندگی محفوظ رہے تو ہمیں بھی دوسروں کی پرائیویسی کا خیال رکھنا ہوگا۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔