کوہستان کرپشن اسکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال تمام اثاثوں سے دستبردار ہوگئے۔

 

ملزم قیصر اقبال کو آج احتساب جج محمد ظفر کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ سماعت کے دوران عدالت نے نیب حکام کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت بھی کی۔

 

عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ آیا وہ کسی دباؤ کے تحت اپنے اثاثوں سے دستبردار تو نہیں ہو رہے، جس پر ملزم نے اثاثوں سے رضاکارانہ دستبرداری کی تصدیق کی۔

 

یہ بھی پڑھیے: وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال خیبر پختونخوا کے لیے کم فنڈز ملنے کا خدشہ

 

ملزم نے 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں سے دستبرداری کے دستاویزات پر دستخط کر دیے۔ نیب کے مطابق ملزم کے گھر سے ایک کلوگرام سے زائد سونا اور 5 ارب 61 کروڑ روپے سے زائد پاکستانی کرنسی برآمد کی گئی تھی۔

 

اس کے علاوہ 21 ہزار سعودی ریال، 8 ہزار امریکی ڈالر اور 9 ہزار 300 برطانوی پاؤنڈ بھی برآمد ہوئے تھے، جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیاں بھی تحویل میں لی گئی تھیں۔

 

نیب حکام کے مطابق ملزم کے بیرون ملک مقیم بھائی کے اکاؤنٹ میں ایک ارب روپے منتقل کیے گئے تھے، جبکہ بے نامی دار امیر سید کے اکاؤنٹ میں بھی ایک ارب روپے منتقل کیے گئے۔ 

 

مزید برآں ایک اور بے نامی اکاؤنٹ میں 2 ارب روپے منتقل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

 

ملزم قیصر اقبال بے نامی داروں کے نام پر خریدی گئی جائیدادوں اور دیگر اثاثوں سے بھی دستبردار ہوگئے۔

 

یاد رہے کہ 6 نومبر 2025 کو احتساب عدالت نے اپر کوہستان میں 37 ارب روپے سے زائد کی مبینہ خردبرد کیس میں گرفتار 8 ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

 

نیب کے مطابق تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ، اکاؤنٹس آفس اور نیشنل بینک کے بعض اہلکاروں نے مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانے سے جعلی نکاسیاں کی تھیں۔ الزام تھا کہ اکاؤنٹ نمبر G-10113 کے ذریعے سیکیورٹی ڈپازٹ کی مد میں 37 ارب روپے سے زائد رقم غیر قانونی طور پر نکالی گئی تھی۔