عید کے دن خوشیوں، ملاقاتوں اور سیر سپاٹے کے ہوتے ہیں۔ جیسے ہی عید آتی ہے، ہر طرف ایک الگ ہی رونق چھا جاتی ہے۔
بچے ہوں یا بڑے، سب ہی کہیں نہ کہیں جانے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ کوئی پارک کا رخ کرتا ہے، کوئی رشتہ داروں کے گھر جاتا ہے، اور کچھ لوگ طویل سفر کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ سب خوشیوں کا حصہ ہے اور ہر کسی کا دل چاہتا ہے کہ وہ ان خوبصورت لمحوں سے بھرپور لطف اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں اضافہ یا کمی؟ آج نئی قیمت کیا ہے؟
اکثر گھروں میں ایک دلچسپ مگر سوچنے پر مجبور کرنے والا منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب گھر کا بیٹا اپنے والدین کے پاس آ کر کہتا ہے کہ وہ دوستوں کے ساتھ سیر پر جانا چاہتا ہے اور کچھ پیسے مانگتا ہے تو زیادہ تر والدین آسانی سے مان جاتے ہیں۔
وہ نہ صرف پیسے دیتے ہیں بلکہ اسے جانے کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ بیٹا ہے، خود کو سنبھال لے گا، دنیا دیکھے گا تو سیکھے گا۔
لیکن جب اسی گھر کی بیٹی اپنے والدین سے کہتی ہے کہ وہ بھی کہیں باہر جانا چاہتی ہے، وہ بھی اکیلے نہیں بلکہ اپنے ماں باپ کے ساتھ، تو اکثر جواب نفی میں ملتا ہے۔
والدین کہتے ہیں کہ تم لڑکی ہو، باہر کے حالات ٹھیک نہیں، بہت رش ہوتا ہے، لوگ اچھے نہیں ہوتے، اس لیے گھر پر ہی رہو۔
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ آخر یہ فرق کیوں ہے۔ اگر بیٹے کو باہر جانے کی اجازت ہے تو بیٹی کو کیوں نہیں، خاص طور پر جب وہ اکیلے نہیں بلکہ اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔
کیا بیٹی کا دل نہیں چاہتا کہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو۔ کیا اسے بھی باہر کی دنیا دیکھنے، خوش ہونے اور یادیں بنانے کا حق نہیں۔
میرے خیال میں تو یہ حق اسے ضرور حاصل ہے اور بالکل حاصل ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ آج کل باہر کے حالات مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔ خاص طور پر عید کے دنوں میں جب رش بہت زیادہ ہوتا ہے تو بدتمیزی اور چھیڑ چھاڑ جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔
بہت سی لڑکیاں ایسے ناخوشگوار تجربات سے گزرتی ہیں اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ والدین کی یہ فکر بالکل جائز ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگر خطرات موجود ہیں تو کیا اس کا حل یہ ہے کہ بیٹی کو مکمل طور پر گھر تک محدود کر دیا جائے، یا پھر یہ زیادہ بہتر نہیں کہ والدین خود اپنی بیٹی کے ساتھ جائیں، اس کا ساتھ دیں اور اسے ایک محفوظ ماحول میں خوشیاں منانے کا موقع دیں۔
جب بیٹی خود یہ کہہ رہی ہو کہ وہ اکیلے نہیں بلکہ اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے تو یہ ایک نہایت مناسب اور محفوظ بات ہے۔ اس میں نہ کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی کوئی غلطی۔
اصل مسئلہ شاید ہماری سوچ میں پوشیدہ ہے۔ ہم نے خود ہی یہ مان لیا ہے کہ بیٹا مضبوط ہے اور بیٹی کمزور۔ ہم بیٹے کو آزادی دیتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ خود کو سنبھال لے گا، لیکن بیٹی کے معاملے میں ہم غیر ضروری حد تک خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ خوف دراصل محبت کا نتیجہ ہوتا ہے مگر بعض اوقات یہی محبت بیٹی کی خوشیوں میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم توازن پیدا کریں۔ بیٹے اور بیٹی دونوں کو برابر سمجھیں۔
اگر بیٹے کو باہر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے تو بیٹی کو بھی کم از کم یہ حق تو حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ کہیں جا سکے۔ اس سے نہ صرف اس کا دل خوش ہوگا بلکہ اس کا اپنے والدین پر اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔
عید خوشیوں کا نام ہے اور خوشیاں تب ہی مکمل ہوتی ہیں جب گھر کے تمام افراد ان میں برابر شریک ہوں۔ بیٹی کو گھر میں بٹھا کر اور بیٹے کو باہر بھیج کر ہم خود ہی ان خوشیوں کو ادھورا کر دیتے ہیں۔
اگر ہم واقعی اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کے جذبات کو بھی سمجھنا ہوگا، ان کی خواہشات کو بھی اہمیت دینی ہوگی اور انہیں خوش رہنے کا برابر موقع دینا ہوگا۔
آخر میں، میں یہی کہنا چاہوں گی کہ بیٹی بھی اسی گھر کا حصہ ہے۔ اس کے بھی وہی خواب، وہی خواہشات اور وہی جذبات ہیں جو بیٹے کے ہیں۔
اگر ہم اسے سمجھیں، اس کا ساتھ دیں اور اسے محفوظ طریقے سے خوشیاں منانے دیں تو نہ صرف ہمارے گھر زیادہ خوشحال ہوں گے بلکہ ایک متوازن اور خوبصورت معاشرہ بھی تشکیل پائے گا۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
