خیبر میں باڑہ پریس کلب کے صحافیوں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے باڑہ جیل کا اہم دورہ کیا، جس دوران قیدیوں کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

 

 قیدیوں نے باڑہ پولیس پر بے گناہ افراد کی گرفتاری اور جھوٹے مقدمات درج کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: آئندہ دنوں میں موسم کی صورتحال کیا رہے گی؟

 

قیدیوں کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار عدالتوں میں گواہی دینے سے گریز کرتے ہیں، جس کے باعث کئی مقدمات تاخیر کا شکار ہیں اور زیرِ حراست افراد کو انصاف کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ 

 

وفد نے باڑہ کورٹ میں مقدمات کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ ایک جج اس بوجھ کو سنبھالنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس تناظر میں وفد نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ باڑہ میں مزید دو ججز تعینات کیے جائیں تاکہ مقدمات کو بروقت نمٹایا جا سکے۔

 

دورے کے دوران جیل کی مجموعی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی، جہاں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہونے پر باڑہ سب جیل کی توسیع کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم جیل عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ محدود وسائل کے باوجود عملہ اپنی ذمہ داریاں مخلصانہ انداز میں انجام دے رہا ہے۔

 

اس موقع پر سماجی شخصیت کپٹن طاہر آفریدی کی جانب سے قیدی مریضوں کے لیے لاکھوں روپے مالیت کی ادویات عطیہ کرنے کے اقدام کو بھی سراہا گیا، جسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔

 

پی ٹی آئی کے ترجمان محب اللہ آفریدی نے یقین دہانی کرائی کہ جیل میں موجود مسائل کو وزیر اعلیٰ تک پہنچایا جائے گا اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

 

 وفد نے آخر میں مطالبہ کیا کہ معمولی نوعیت کے مقدمات میں گرفتار قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔