بنوں میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے خلاف “بنوں امن پاسون” کے زیر اہتمام ایک بڑے امن مارچ کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں کے رہنماؤں، قبائلی مشران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

شرکاء نے امن کے حق میں اور بدامنی کے خلاف نعرے لگائے، جبکہ شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

 

 مقررین نے اعلان کیا کہ 2 اپریل کو جماعت اسلامی بنوں کے دفتر میں ایک گرینڈ امن جرگہ منعقد ہوگا، جس میں تمام مکاتبِ فکر، سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی کو مدعو کیا جائے گا تاکہ مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

 

یہ بھی پڑھیے: سوات: 9 خالی پٹواری آسامیوں میں مبینہ رشوت کا الزام

 

مقررین کا کہنا تھا کہ بنوں اور جنوبی اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عوام شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا بالخصوص بنوں میں کسی قسم کا آپریشن قابل قبول نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور تمام مسلح گروپوں کے مراکز فوری طور پر بند کیے جائیں۔ مقررین نے “گڈ اور بیڈ طالبان” کی ہر قسم کی مداخلت کو بھی مسترد کیا۔

 

رہنماؤں نے معدنی وسائل، خصوصاً تیل و گیس پر صوبے کے آئینی اختیار کو برقرار رکھنے پر زور دیا اور 19 جولائی 2024 کے احتجاج کے بعد مشران پر قائم مقدمات واپس لینے اور گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

 

مزید برآں، سڑکوں کی بندش پر شدید تنقید کرتے ہوئے میران شاہ روڈ سمیت دیگر اہم شاہراہوں کو فوری کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی رکاوٹوں کے باعث ٹریفک نظام درہم برہم اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

 

مقررین نے حکومت اور سکیورٹی اداروں کو بدامنی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

 

امن مارچ کی قیادت جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما باز محمد خان، ڈاکٹر پیر صاحب زمان اور دیگر علاقائی مشران نے کی۔

 

 مارچ کا آغاز لکی گیٹ سے ہوا اور شہر کے مختلف بازاروں سے گزرتا ہوا پریٹی گیٹ پر جلسے کی شکل اختیار کر گیا۔