رفیع اللہ خان
سوات میں ڈپٹی کمشنر آفس میں پٹواریوں کی خالی آسامیوں پر مبینہ طور پر رشوت کے الزامات سامنے آنے کے بعد معاملہ تشویشناک ہو گیا ہے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر آفس سوات میں پٹواریوں کی 9 خالی آسامیوں کے لیے حال ہی میں اشتہار جاری کیا گیا تھا، تاہم الزام ہے کہ بھرتی کے عمل کے دوران ہر امیدوار سے 3 لاکھ 50 ہزار روپے وصول کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: ایچ آئی وی کے شکار خواجہ سرائیں علاج کی بجائے موت کیوں اپناتی ہیں؟
اطلاعات کے مطابق سیدو شریف کے رہائشی نوید احمد، جو مبینہ طور پر فیصل نامی گرداور کا قریبی رشتہ دار ہے، نے تمام امیدواروں سے رقم اکٹھی کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ یہ رقم برکت نامی شخص (جو لوکل گورنمنٹ کا ملازم بتایا جاتا ہے) کے ذریعے ڈپٹی کمشنر سوات تک پہنچائی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر سوات سلیم اللہ مروت نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ پٹواریوں کی بھرتی کے حوالے سے ابھی تک کوئی ٹیسٹ منعقد نہیں ہوا اور عدالت نے مزید کارروائی کو مؤخر کر دیا ہے، کیونکہ چند متاثرہ امیدوار، جو عمر کی حد سے تجاوز کر چکے ہیں، نے عدالت سے اپنے حق کے تحفظ کے لیے اسٹیٹس کو حاصل کر رکھا ہے۔ اس لیے بھرتی کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پٹواریوں کی اپنی فہرست موجود ہے اور بھرتیاں اسی ترتیب کے مطابق کی جائیں گی، جو سب کے لیے واضح اور عوام کے سامنے ہے۔ کسی امیدوار کو کسی شخص سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ میرا دفتر شفاف ہے، اگر کسی نے پہلے کسی کو رقم دی ہے تو وہ آ کر مجھے اطلاع دے۔
عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ الزامات اور وضاحت کے پیش نظر معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور بھرتی کے عمل میں میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔
