پشاور کے ایک پسماندہ قبرستان میں جب 27 سالہ عارف عرف واڑہ کی میت لائی گئی تو وہاں کندھا دینے والا کوئی خون کا رشتہ دار موجود نہ تھا۔ سسکیاں بھرتی خواجہ سراؤں کی ایک مختصر ٹولی اور چند بے بس دوست ہی اس کا آخری سہارا تھے۔
واڑہ کوئٹہ سے 12 سال قبل روشن مستقبل کا خواب لیے پشاور منتقل ہوا تھا مگر کچھ عرصہ قبل ایچ آئی وی کا شکار ہو گیا جس نے اسے جیتے جی تنہا کر دیا اور مرنے کے بعد بھی لاوارث چھوڑ دیا۔
واڑہ کی قریبی دوست فرزانہ، جو اس کے آخری لمحات کی عینی شاہد ہیں، نم آنکھوں کے ساتھ بتاتی ہیں کہ وہ عید کے پانچویں دن مسکراتا ہوا یہاں سے نکلا تھا اور پھر میں نے اس کی نیلی پڑی ہوئی لاش دیکھی۔ وہ مہینوں سے ایچ آئی وی کے ساتھ جی رہا تھا لیکن اس نے کسی کو بتایا نہیں۔
وہ ڈرتا تھا کہ اگر پتہ چل گیا تو اسے اس پلازے سے نکال دیا جائے گا جہاں وہ رہتا ہے۔ اسے ہسپتال میں بروقت علاج ملا نہ ڈاکٹروں کی ہمدردی اور وہ اسی بے بسی میں دم توڑ گیا۔
ایڈز کا شکار خواجہ سرا علاج کرانے سے کتراتے کیوں ہیں؟
فرزانہ کا غم صرف ایک دوست کی جدائی کا نہیں بلکہ اپنے مستقبل کا خوف بھی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ہم اپنے ساتھیوں کو مرنے کے بعد بھی یوں بے آسرا دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کی لاشوں میں اپنا عکس نظر آتا ہے۔ کیا میرے مرنے پر میرا باپ یا بھائی آئے گا یا پھر میرے ساتھ بھی یہی ہوگا۔
واڑہ کی یہ خاموش موت دراصل اس بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے جو خیبر پختونخوا میں ایڈز کے الزام کے نام پر خواجہ سرا برادری کو دیوار سے لگا رہا ہے۔ یہی وہ ذہنی اور سماجی دباؤ ہے جو وائرس سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے کیونکہ جب وائرس کا خوف موت کے خوف سے مل جائے تو انسان علاج کے بجائے چھپنے کا lراستہ اختیار کر لیتا ہے۔
الزام اور تشدد، خواجہ سرا برادری نشانے پر
خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا ہونا پہلے ہی کسی کڑی آزمائش سے کم نہ تھا مگر حالیہ برسوں میں ایچ آئی وی کو ان کی پہچان بنا کر تشدد کی ایک نئی اور خوفناک لہر کو جواز فراہم کر دیا گیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق سال 2025 کے دوران صوبے بھر میں 15 خواجہ سرا قتل کیے جا چکے ہیں جن میں پشاور، مردان اور چارسدہ سرفہرست ہیں۔ ٹرانس ایکشن الائنس کی صدر فرزانہ ریاض کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں یہ تعداد 157 تک پہنچ چکی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ معاشرے میں یہ بات عام کر دی گئی ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی واحد وجہ خواجہ سرا ہیں۔
اگر ہم بیمار ہیں تو یہ لوگ ہمارے پاس اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے کیوں آتے ہیں۔ وہ کیوں نہیں پکڑے جاتے۔ کیا وائرس صرف خواجہ سرا کے جسم میں رہتا ہے۔
یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب ہم اعداد و شمار اور حقیقت کو دیکھتے ہیں۔ ایک طرف خواجہ سراؤں کو ایڈز کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف طبی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں
ایم فل اسکالر اور انسانی حقوق کے کارکن جمال عرف ہیر کے پاس موجود اعداد و شمار اس غلط تاثر کو ختم کر دیتے ہیں۔ ہیر کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ 9 ہزار مریضوں میں سے خواجہ سراؤں کی تعداد محض 197 ہے جو مجموعی تعداد کا ایک فیصد بھی نہیں بنتی۔
سب سے زیادہ متاثرہ گروہ مردوں کا ہے، اس کے بعد خواتین اور پھر بچے آتے ہیں تو پھر سارا الزام خواجہ سراؤں پر ہی کیوں آتا ہے۔
صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر طارق حیات تاج بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ صوبے میں رجسٹرڈ 9749 مریضوں میں سے 60 فیصد مرد اور 30 فیصد خواتین ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کیسز اتنے زیادہ ہیں اور خواجہ سراؤں کی تعداد اتنی کم ہے تو پھر وائرس پھیل کیسے رہا ہے۔
جواب ان چھپی ہوئی وجوہات میں ہے جن پر معاشرہ بات کرنا پسند نہیں کرتا۔ ڈاکٹر طارق حیات کے مطابق غیر قانونی کلینکس، گندی سرنجوں کا استعمال، نائی کی دکانوں پر بغیر صاف کیے گئے استرے اور غیر محفوظ خون لگانا وہ اصل وجوہات ہیں جو ہر عام شہری کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
ڈاکٹر طارق حیات کے مطابق حکومت نے ٹرانس کمیونٹی کے لیے خصوصی ٹیمیں بنائی ہیں جو ان کے ڈیروں پر جا کر کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ مکمل طور پر رضاکارانہ ہوتا ہے تاکہ کسی کی نجی زندگی متاثر نہ ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایچ آئی وی اب لاعلاج نہیں رہا۔ اگر بروقت پتہ چل جائے تو مریض کو ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو خون میں وائرس کے اثر کو کم کر دیتی ہیں جس سے وہ ایک عام انسان کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ علاج کی سہولیات اور ادویات حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جا رہی ہیں لیکن علاج میں دیر کی جائے تو صحت یابی مشکل ہو جاتی ہے۔
بدنامی کا ڈر اور بیماری چھپانے کی مجبوری
یہی وہ مقام ہے جہاں سماجی نفرت خود معاشرے کے لیے زہر بن جاتی ہے۔ جب ایچ آئی وی کو گناہ اور کردار سے جوڑ دیا جاتا ہے تو مریض اسے ایک خوفناک راز بنا لیتا ہے۔
20 سال سے اس فیلڈ میں کام کرنے والے اعجاز خان بتاتے ہیں کہ بدنامی کا یہ ڈر مریضوں کو ٹیسٹ کرانے سے روکتا ہے۔
اگر ایک خواجہ سرا کو پتہ چل جائے کہ اسے ایڈز ہے تو وہ اسے اس لیے چھپاتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ گاہک آنا بند ہو جائیں گے، اسے ڈانس پارٹیوں میں نہیں بلایا جائے گا اور اسے اس کے ڈیرے سے نکال دیا جائے گا۔
ہیر نے ایک واقعہ سنایا کہ کس طرح پشاور کے ایک 33 سالہ خواجہ سرا کو منشیات بحالی مرکز سے صرف اس لیے دھکے دے کر نکال دیا گیا کیونکہ اس کا ٹیسٹ مثبت آ گیا تھا۔ اسے نہ اپنوں نے قبول کیا نہ پرایوں نے اور وہ اسی حالت میں سڑک کنارے تڑپ تڑپ کر مر گیا۔
فرزانہ ایک اور مثال خواجہ سرا دیوانی کی دیتی ہیں جسے ایڈز ظاہر ہونے پر پشاور میں ٹرانس کمیونٹی کے نام سے مشہور اقبال پلازہ سے نکال دیا گیا جس کے بعد وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے کچرا چننے پر مجبور ہوئی اور اسی حالت میں دم توڑ گئی۔
یہ نفرت اور لوگوں سے دور کر دینا دراصل ایچ آئی وی کو ایک خطرناک صورت میں بدل رہا ہے کیونکہ جب متاثرہ شخص علاج کے بجائے چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے تو وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
ہسپتالوں کا رویہ، علاج یا مزید مشکل
ستم ظریفی یہ ہے کہ جہاں ان مریضوں کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے وہیں سرکاری ہسپتالوں کا نظام ان کے لیے مزید اذیت کا باعث بنتا ہے۔
ایڈووکیٹ عائشہ خورشید کہتی ہیں کہ آئین پاکستان تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے لیکن ہسپتالوں میں خواجہ سراؤں کے لیے نہ مخصوص وارڈز ہیں اور نہ ہی عملے کی مناسب تربیت۔
اعجاز خان بتاتے ہیں کہ ایک نوجوان مریض جب اپنے والد کے ساتھ ہسپتال گیا تو عملے نے سب کے سامنے اسے طعنے دیے کہ تم لوگ معاشرہ خراب کرتے ہو، سیکس کرتے ہو، اس لیے ایڈز ہوا ہے۔
رازداری کے اس فقدان اور تضحیک آمیز رویے کی وجہ سے مریض اس وقت ہسپتال پہنچتے ہیں جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور بچنے کی امید کم ہو جاتی ہے۔
اگرچہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور ایل آر ایچ میں مراکز قائم ہیں اور علاج مفت ہے لیکن جب تک مریض کو وہاں عزت اور رازداری کی یقین دہانی نہیں ملے گی وہ ان مراکز کا رخ نہیں کرے گا۔ یہ وہ کمزوریاں ہیں جن کا فائدہ وائرس کو پہنچ رہا ہے۔
آگاہی اور بہتر نظام کی ضرورت
اس سنگین مسئلے کا حل صرف ادویات میں نہیں بلکہ سوچ کی تبدیلی میں ہے۔ فرزانہ خان کا مطالبہ ہے کہ نصاب میں پیاسے کوے کے بجائے ایچ آئی وی جیسی حقیقتوں پر آگاہی دی جائے۔
ماہرین صحت اور قانونی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جب تک ایچ آئی وی کو اخلاقیات کے بجائے ایک طبی مسئلہ نہیں سمجھا جائے گا، ہسپتال کے عملے کو حساس نہیں بنایا جائے گا، مریضوں کی رازداری یقینی نہیں بنائی جائے گی اور غیر قانونی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہوگی تب تک واڑہ جیسے نوجوان یونہی بے گور و کفن مرتے رہیں گے۔
واڑہ کی موت صرف ایک انسان کا خاتمہ نہیں بلکہ اس معاشرتی رویے کی عکاسی ہے جہاں علاج سے زیادہ بدنامی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
پشاور کے قبرستان میں واڑہ کی تازہ مٹی آج بھی پکار رہی ہے کہ اگر ہم نے نفرت کا راستہ نہ روکا تو کل یہ وائرس کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر گھر کی دہلیز پر دستک دے گا۔
ایچ آئی وی قابل علاج ہے لیکن معاشرتی بے حسی کا علاج اب تک دریافت نہیں ہو سکا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں یا نفرت کی بنیاد پر بٹی ہوئی ایک ایسی آبادی جہاں بیماری کو چھپانا ہی زندگی بچانے کا واحد راستہ بن جائے۔
