ایمل پسرلی

 

طورخم کے سنگلاخ، سر بہ فلک پہاڑوں کے سائے شام کی لالی میں لمبے ہو چکے تھے۔ ایک چٹان کی دراڑ سے اب بھی سفید گرد کی ایک لہر اٹھ رہی تھی؛ کچھ ہی دیر پہلے توپ کا ایک گولہ اس پر آ گرا تھا۔

 

 پتھر کے چاک شدہ سینے سے باریک ذرات یوں اڑے تھے جیسے کسی زخمی دل کی آخری سانسیں۔ مگر گولہ باری کرنے والوں کے دل ابھی تک ٹھنڈے نہ ہوئے تھے، جیسے ہانڈی دھیمی آنچ پر مسلسل کھولتی رہے: ٹک… ٹک… ٹک… وقفے وقفے سے ابھرتی فائرنگ کی خشک گونج، پھر چند مسلسل ضربیں۔

 

 سکوت تب اترتا جب ہر ٹک کی گونج تھک کر بجھ جاتی، پھر یکایک خاموشی چھا جاتی، مگر دلوں کی بے چینی برقرار رہتی۔ جنگ بھی تو ایسے ہی اچانک بھڑکی تھی۔

 

سرحدی لکیر کے عین بیچ ایک لاش پڑی تھی—نہ اِس پار کی، نہ اُس پار کی۔ جیسے کسی ٹیڑھی لکیر کی غلطی کا نشان۔ نہ معلوم کب گری، کون تھی، کس نے ماری۔ دور سے دکھائی دیتی تھی، مگر کوئی اس کے قریب جانے کی جرأت نہ کرتا۔ 

 

یہ بھی پڑھیے: طورخم بارڈر جزوی بحال، افغان مہاجرین کی واپسی شروع

 

لیکن اس کی خبر یہاں سے بہت دور، آسودہ شہروں کے نرم بستروں تک جا پہنچی تھی۔ کسی نے کہا وہ محمد قاسم تھا، جو روزی کی تلاش میں چھوٹے موٹے اسمگلنگ کے دھندے میں پڑ گیا تھا۔ دوسرے نے دعویٰ کیا کہ وہ توریالی ہے، ایک ٹرک کا کلینر۔ ایک اور نے اسے ماجد خان بتایا، جو مزدوری کرتا تھا۔

 

مگر یہاں، اس بے نام لاش کے پاس، کوئی نہ آیا۔ سب اسے دور سے دیکھتے، جیسے پہاڑ کا کوئی پتھر لڑھک کر آ گرا ہو۔ شاید پہاڑوں کی چوٹیوں پر کوئی انگلی ٹریگر پر رکھے بیٹھا تھا؛ اگر کسی کا سایہ بھی جنبش کرتا تو شاید گولی اس کا مقدر بن جاتی۔ یہی خوف ہر دل میں گھر کر چکا تھا۔

 

دور کہیں محفوظ بستیوں سے آوازیں آتی تھیں—طعنوں کی، افسوس کی، بحث کی—مگر کوئی قدم آگے نہ بڑھاتا۔ ہر شخص دوسرے کا منتظر تھا، جیسے لاش کسی اور کی ذمہ داری ہو، جیسے وہ دوسری طرف کی ہو، جیسے وہ کسی اور جنگ کا ملبہ ہو۔ مگر ایک بات سب جانتے تھے: کوئی مارا گیا ہے، چاہے اِس طرف، چاہے اُس طرف۔

 

 کسی کا گھر اجڑا ہے، چاہے اِس پار، چاہے اُس پار۔ اس لکیر کے دونوں جانب، جو جنگ کے شور میں ویسے بھی دکھائی نہیں دیتی۔ اور جب توپ اور بندوق کے دہانے کھلے ہوں، تو لاش اٹھانے والا بھی نظر نہیں آتا۔

 

خاموشی یوں پھیل گئی جیسے کسی ویران قبرستان میں، جہاں آواز نہیں ہوتی، مگر ہر مٹی کا ڈھیر اور ہر پتھر آنکھوں میں موت کی تصویر بن جاتا ہے۔ ایک پرندے کے پروں کی سرسراہٹ ہوئی، اور ایک سیاہ گدھ آسمان سے ابھرا۔ اس نے لاش کے اوپر کئی چکر لگائے، پھر آہستہ آہستہ نیچے اترا اور چند قدم دور ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔

 

 اس نے لاش کی طرف نہ دیکھا، جیسے وہ بھی ان پوشیدہ بندوق برداروں سے خوفزدہ ہو، جن کے دل پتھر اور وار اندھے کی لاٹھی کی مانند ہوتے ہیں—جہاں بھی لگ جائے، بس لگ جائے۔

 

پہاڑوں کے سناٹے میں پھر وہی ٹک… ٹک… ٹک… کی آواز ابھری، جیسے ہانڈی دوبارہ کھولنے لگی ہو۔ گونج لمبی ہوتی گئی۔ سرخ گولیاں لاش کے قریب زمین میں دھنس گئیں۔ دور چھپے ہوئے لوگوں نے کراہ کر کہا کہ لاش کو بھی نہیں چھوڑتے، جبکہ کسی نے کہا کہ گولی لاش پر نہیں تھی بلکہ گدھ کو بھگانے کے لیے چلائی گئی ہے۔

 

گدھ اڑ گیا، جیسے سیاہ سایہ پہاڑوں میں گم ہو جائے۔ پھر خاموشی نے دوبارہ ڈیرہ ڈال دیا۔

 

دور کے شہروں میں لوگ اب کسی اور موضوع میں مصروف ہو چکے تھے۔ یہ لاش، یہ واقعہ ان کی یاد سے محو ہو چکا تھا۔ مگر یہاں ایک بوڑھا شخص، اپنے لرزتے ہاتھ گھٹنوں پر رکھ کر اٹھا۔ اس کے خشک ہونٹوں نے جنبش کی، اور اس نے کمزور آواز میں کلمہ ادا کیا۔ کسی نے پکارا کہ کیا کر رہے ہو، بیٹھ جاؤ، مت جاؤ۔ دوسرے نے کہا کہ شاید وہ پاگل ہو گیا ہے۔

 

مگر بوڑھا جیسے بہرہ ہو، کچھ نہ سنتا تھا۔ جھکی کمر کے ساتھ سرحد کی لکیر کی طرف بڑھنے لگا۔ اس نے پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف بھی نہ دیکھا۔ لوگ اسے دیکھ رہے تھے۔ جوں جوں وہ لاش کے قریب جاتا، لوگوں کو اپنے دل کی دھڑکن سنائی دینے لگتی۔ بندوقوں کے دہانے اب بھی خاموش مگر کھلے تھے۔

 

بوڑھا اور جھکا، لاش تک پہنچ گیا۔ اس نے ہاتھ بڑھایا، اس کا سایہ لاش کے چہرے پر پڑا۔ اس نے اپنی سفید چادر لاش کے پہلو میں پھیلائی۔ چھپے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ لگتا ہے اب گولیاں نہیں چل رہیں، کسی نے کہا کہ بوڑھے کو کچھ نہیں کہتے، اور کسی نے کہا کہ لاش کو محفوظ کرنا چاہیے۔

 

ایک نوجوان نے آواز دی کہ لاش کس کی ہے؟ بوڑھے نے جواب نہ دیا، اپنے کام میں لگا رہا۔ پھر سوال آیا کہ وہ اُس طرف کا ہے یا اِس طرف کا؟ بوڑھے نے لاش کو دیکھا—وہ جوان تھا، دھوپ سے جلا ہوا چہرہ، جیسے یہاں کے سب لوگوں کا ہوتا ہے۔ بوڑھے کو نہ اِس طرف کا پتہ تھا نہ اُس طرف کا۔ شاید اس کا سر ایک طرف تھا اور دل دوسری طرف۔

 

جب بوڑھے نے آہستہ آہستہ لاش کو کھینچا تو دو اور لوگ آگے بڑھے، پھر تین اور۔ گدھ نے دور سے ایک چکر لگایا، پھر دوسری طرف جا بیٹھا۔

 

لاش اِس طرف لائی گئی، اور گدھ دوسری طرف بھوکا رہ گیا۔ خاموشی پھر پھیل گئی۔ معلوم نہ تھا کہ گدھ دوبارہ کب اڑے گا۔

 

نوٹ: یہ کالم ایمل پسرلی نے لکھا ہے، جبکہ اس کا اردو ترجمہ شاہد مومند نے کیا ہے۔