پاک–افغان طورخم بارڈر، جو حالیہ سیکیورٹ  کشیدگی کے باعث بند تھا، آج افغان  پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق بارڈر تقریباً ایک ماہ تک مکمل بند رہا، جبکہ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے تجارت اور عام شہریوں کی آمدورفت بھی معطل ہے اور تاحال تجارتی سرگرمیاں بحال نہیں ہو سکیں۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بارڈر کو محدود  پیمانے پر صرف افغان  پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے کھولا گیا ہے، جبکہ تجارت اور عام افراد کی آمدورفت بدستور بند رہے گی۔

 

دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ 

 

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد افغان شہریوں کو گرفتار کرکے فارن ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت طورخم کے راستے افغانستان واپس بھجوا دیا ہے۔

 

حکام کے مطابق صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور سیکیورٹی حالات بہتر ہونے پر بارڈر کو مکمل طور پر کھولنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔