پشاور موٹروے پر ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر 'آئس' کے نشے کے ذریعے جنسی زیادتی کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد چمکنی پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے، جس کے بعد مقدمے میں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ گرفتار ملزمان آئس کے عادی ہیں اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے:کیا بچوں کی کامیابی صرف پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں ہے؟
متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بیان دیا کہ دو ماہ قبل وہ بونیر میں شادی کی تقریب میں موجود تھی، جہاں اس کا ماموں زاد بھائی اور اس کا دوست نصیب اسے زبردستی گاڑی میں بٹھا کر پشاور لے آئے۔ دورانِ سفر ملزمان نے خود اور لڑکی کو آئس استعمال کرنے پر مجبور کیا۔
واقعہ تب سامنے آیا جب واپسی کے دوران ٹول پلازہ کے قریب ایکسائز پولیس نے مشکوک گاڑی کو روکا اور دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے گاڑی قبضے میں لے لی۔
پولیس نے لڑکی کو حفاظتی تحویل میں یتیم خانے منتقل کر دیا ہے اور میڈیکل رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
