خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت میں مالیاتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے صوبے کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

 

 نوٹس میں سال 2025-26 کے میڈیسن بجٹ کے استعمال میں قواعد کی خلاف ورزیوں پر فوری وضاحت طلب کی گئی ہے۔

 

ان ہسپتالوں میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چارسدہ، باجوڑ، مہمند، بٹگرام، کوہاٹ، مردان، مانسہرہ، ملاکنڈ، لوئر چترال، سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال سوات، ٹانک، بینظیر بھٹو ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد اور ایم آر ایم ایچ  پبی نوشہرہ شامل ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر: تیراہ کے متاثرہ طلبہ و طالبات کے میٹرک امتحانات کس طریقۂ کار کے تحت ہوں گے؟

 

 مراسلے میں کہا گیا ہے کہ متعدد ہسپتالوں نے ادویات کی خریداری اور ادائیگیوں میں مقررہ مالیاتی اصولوں کو نظر انداز کیا۔

 

 خلاف ورزیوں میں مجاز پرچیز آرڈرز سے زیادہ ادائیگیاں کرنا، تصدیق شدہ ڈیلیوری کے بغیر بل کلیئر کرنا اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی منظوری کے بغیر ادائیگیاں جاری کرنا شامل ہیں۔

 

مراسلے میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ ہسپتال انتظامیہ نے بارہا ہدایات کے باوجود مالیاتی ڈسپلن برقرار رکھنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔ 

 

واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ گزشتہ مالی سالوں کے بقایاجات موجودہ بجٹ سے ادا نہ کیے جائیں، کم از کم 80 فیصد فنڈز سی ایم ایم او پی پورٹل کے ذریعے شفاف خریداری پر خرچ کیے جائیں اور مقامی خریداری کے لیے مقرر کردہ ضوابط کی سختی سے پابندی کی جائے۔

 

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے متعلقہ ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو روز کے اندر غیر معمولی اخراجات کی مکمل تفصیلات اور مستند دستاویزی ثبوت فراہم کریں۔

 

 حکام کا کہنا ہے کہ جوابات کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور اگر وضاحت تسلی بخش نہ ہوئی تو ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔