وادی تیراہ میں بدامنی اور ممکنہ فوجی آپریشن کے خدشات کے باعث ہزاروں خاندانوں کی نقل مکانی نے جہاں روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں طلبہ کی تعلیم بھی شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے۔

 

 گھروں سے بے دخل ہونے والے سینکڑوں طلبہ و طالبات اب امتحانات کے قریب ہونے کے باوجود نہ مناسب تیاری کر سکے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے رول نمبر سلپس اور امتحانی مراکز کے بارے میں واضح معلومات حاصل ہیں۔

 

جماعت نہم اور دہم کے یہ طلبہ ایک ایسے غیر یقینی ماحول میں امتحانات کا سامنا کر رہے ہیں جہاں تعلیمی تسلسل ٹوٹ چکا ہے۔ متاثرہ خاندان ایک طرف معاشی مشکلات سے دوچار ہیں تو دوسری جانب بچوں کی تعلیم بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے، جبکہ حکومتی سطح پر کسی خصوصی انتظام کے فقدان نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

 

محمد عثمان، جو وادی تیراہ کے علاقے ورسک کے ایک سرکاری ہائی سکول میں جماعت نہم کے طالب علم تھے، ایک افسوسناک واقعے کا شکار ہوئے۔ وہ اپنے آٹھ دوستوں کے ہمراہ ایک رشتہ دار کی شادی میں شریک تھے کہ اسی دوران ڈرون حملے کی زد میں آ گئے، جس کے نتیجے میں ان کا بایاں پاؤں ضائع ہو گیا۔ حال ہی میں وہ بھی اپنے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کر چکے ہیں، مگر امتحانات سر پر ہونے کے باوجود انہیں اب تک اپنے رول نمبر اور امتحانی مرکز کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

 

محمد عثمان کے مطابق “گزشتہ ایک سال کے دوران بدامنی کے باعث تعلیم بری طرح متاثر ہوئی۔ مسلسل فائرنگ کے واقعات کی وجہ سے علاقے میں خوف کا ماحول تھا اور سکول میں طلبہ کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ 

 

کئی بار مارٹر گولے سکول کے صحن میں گرے جس سے عمارت کو نقصان پہنچا۔ اساتذہ بھی سکول نہیں آتے تھے۔ ہم نے تقریباً کوئی پڑھائی نہیں کی اور اب امتحانات شروع ہونے والے ہیں۔”

 

محمد عثمان جیسے سینکڑوں طلبہ و طالبات کو اس بات کی شدید تشویش لاحق ہے کہ بورڈ کے امتحانات انہی حالات کے مطابق لیے جائیں گے جہاں پورا سال معمول کے مطابق تعلیم جاری رہی۔

 

ضلع خیبر کی دورافتادہ وادی تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے باعث گزشتہ سال نومبر میں مقامی آبادی کی نقل مکانی شروع ہوئی، جبکہ بے گھر خاندانوں کی باقاعدہ رجسٹریشن کا عمل 6 جنوری سے شروع کیا گیا۔

 

محکمہ تعلیم خیبر کے مطابق وادی تیراہ میں 16 سرکاری لڑکوں کے سکولوں میں 3,300 طلبہ زیر تعلیم تھے، جبکہ لڑکیوں کے 5 سکولوں میں 400 طالبات پڑھ رہی تھیں۔ اسی طرح 10 نجی ہائی سکولوں میں 5,000 طلبہ و طالبات، 7 نجی مڈل سکولوں میں 3,000 طلبہ اور 600 طالبات، جبکہ 2 نجی پرائمری سکولوں میں 600 طلبہ اور 300 طالبات زیر تعلیم تھے۔

 

31 مارچ سے شروع ہونے والے جماعت نہم اور دہم کے امتحانات میں 500 طلبہ اور 60 طالبات شرکت کریں گے، جبکہ مجموعی طور پر 13 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق اب تک 1,600 طلبہ و طالبات کو باڑہ کے مختلف سرکاری سکولوں میں داخل کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید طلبہ کی شمولیت کے لیے آگاہی مہم جاری ہے۔

 

اسی صورتحال میں آٹھویں جماعت کے طالب علم حمزہ خان کے لیے بھی تعلیمی سفر کا نیا مرحلہ آسان نہیں۔ رواں سال جنوری کے اوائل میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرکے باڑہ کے علاقے کھجوری منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول کوہی شیر حیدر میں داخلہ لیا ہے۔

 

حمزہ اس سے قبل ایک نجی سکول میں زیر تعلیم تھے، مگر نقل مکانی کے بعد بڑھتے ہوئے معاشی مسائل نے ان کے والدین کو مجبور کر دیا کہ وہ انہیں نجی تعلیمی ادارے میں مزید نہ پڑھا سکیں۔ 

 

حمزہ کہتے ہیں کہ میں تیراہ میں ایک نجی سکول میں پڑھ رہا تھا، وہاں تعلیم کا معیار بہتر تھا۔ ہم آٹھویں جماعت کا کورس مکمل کر چکے تھے اور جماعت نہم کی پڑھائی شروع ہو چکی تھی، لیکن یہاں آ کر ہمیں دوبارہ آٹھویں جماعت کا نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔ مالی مسائل کی وجہ سے نجی سکول میں تعلیم جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔

 

بدامنی اور نقل مکانی کے شکار وادی تیراہ کے طلبہ کے لیے بورڈ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے کسی خصوصی انتظام کے بارے میں جب حکام سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ متاثرہ طلبہ کے لیے کوئی الگ پالیسی یا سہولت موجود نہیں، اور ان کے امتحانات دیگر طلبہ کی طرح ہی لیے جائیں گے۔

 

 حکام کا کہنا تھا کہ 2009 کے سوات آپریشن اور کورونا وبا کے دوران صوبائی حکومت نے باقاعدہ فیصلے کیے تھے جن پر تعلیمی بورڈز نے عمل درآمد کیا، تاہم تیراہ کے معاملے میں اب تک کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

 

اسی حوالے سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خیبر، مصری خان نے ٹی این این کو بتایا کہ وادی تیراہ میدان کے دو سرکاری ہائی سکولز—ورسک شلوبر اور پائندہ چینہ—میں نہم و دہم کے مجموعی طور پر 82 طلبا 31 مارچ سے شروع ہونے والے میٹرک امتحانات میں شرکت کریں گے۔

 

 ان کے مطابق رول نمبر سلپس ڈاؤنلوڈ کر کے طلبا تک بروقت پہنچانے کی ذمہ داری متعلقہ سکولوں کے پرنسپلز کو سونپی گئی ہے، جبکہ نجی سکولوں کے طلبا کے لیے یہ ذمہ داری ان کی انتظامیہ ادا کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال بورڈ امتحانات کلسٹر سسٹم کے تحت منعقد ہوں گے، جس کے تحت طلبا کو مختلف امتحانی مراکز میں تقسیم کیا جائے گا۔

 

 ڈی ای او کے مطابق تاحال گریس مارکس یا کسی اضافی ریلیف سے متعلق کوئی پالیسی جاری نہیں کی گئی، تاہم طلبا کی سہولت کے پیش نظر امتحانی مراکز کے قریب رہائش کی فراہمی کے لیے محکمہ تعلیم خیبر اور ضلعی انتظامیہ باہمی رابطے میں ہیں۔

 

سعید خان، جو وادی تیراہ سے نقل مکانی کے بعد باڑہ میں کرائے کے مکان میں مقیم ہیں، شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے چار بچے تیراہ میں نجی سکول میں زیر تعلیم تھے، مگر اب وہ انہیں نجی سکولوں میں داخل کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کا ایک بیٹا جماعت نہم میں ہے اور اس کے امتحانات قریب ہیں، مگر انہیں امتحانی مرکز اور رول نمبر کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

 

سعید خان بتاتے ہیں:“میرے بیٹے نے رول نمبر سلپ کے لیے سکول انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ 20 ہزار روپے فیس بقایا ہے اور جب تک مکمل فیس ادا نہیں کی جاتی، سلپ جاری نہیں ہوگی۔ ہم نے 10 ہزار روپے قرض لے کر جمع کرائے، مگر سکول انتظامیہ مکمل رقم کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ایک طرف نقل مکانی کا دکھ ہے اور دوسری طرف بچوں کی تعلیم، کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔”

 

گزشتہ سال بھی بدامنی کے باعث تیراہ کے 400 سے زائد طلبہ و طالبات کے امتحانی مراکز باڑہ منتقل کیے گئے تھے، جہاں طلبہ نے شدید مشکلات کے باوجود امتحانات میں شرکت کی تھی۔