خلیجی خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر پاکستان کے ایک محنت کش گھرانے کی خوشیوں کو المیے میں بدل دیا۔
ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے اسماعیل سلیم، جو گزشتہ ایک دہائی سے اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے، عالمی تنازعات کی بھینٹ چڑھ گئے۔
اسماعیل سلیم کا بیرونِ ملک روزگار سے تعلق ایک طویل عرصے پر محیط تھا۔ وہ دس برس قبل روزگار کے حصول کے لیے دبئی گئے اور اس دوران وقفے وقفے سے وطن آ کر اپنے خاندان سے ملاقات کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغان طالبان کے حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم مُنیر کا واضح پیغام
تاہم ان کا حالیہ قیام ان کے اہلِ خانہ کے لیے طویل ترین جدائی ثابت ہوا۔ وہ گزشتہ ایک سال سے ابوظہبی میں مسلسل خدمات انجام دے رہے تھے اور اس عرصے میں اپنی 6 بیٹیوں اور 4 بیٹوں سے ملاقات نہ کر سکے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ مزید مالی وسائل جمع کر کے جلد وطن واپس آ جائیں، مگر حالات نے انہیں یہ موقع نہ دیا۔
مرحوم کے کزن اکرام نے ٹی این این کو بتایا کہ اسماعیل ایک کیبل کمپنی میں الیکٹریکل وائرنگ اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ہمیں وہاں موجود ذرائع سے اطلاع ملی کہ ابوظہبی کے علاقے بنی یاس میں ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کیا گیا، جس کا ملبہ بدقسمتی سے ان پر آ گرا، اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
ہم نے ابھی تک ان کے بچوں اور اہلِ خانہ کو اس سانحے سے آگاہ نہیں کیا، کیونکہ ہمیں خدشہ ہے کہ وہ اس صدمے کو برداشت نہیں کر پائیں گے۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق میت کی وطن واپسی کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
مرحوم کا جسدِ خاکی آج اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچایا جائے گا، جہاں سے اسے ایمبولینس کے ذریعے ان کے آبائی علاقے منتقل کیا جائے گا۔ نمازِ جنازہ اور تدفین ضلع کرم میں ادا کی جائے گی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم اور اس میں امریکی شمولیت کے باعث خلیجی ممالک میں سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ میزائل ڈیفنس سسٹمز کے ذریعے فضا میں تباہ کیے جانے والے ہتھیاروں کا ملبہ اکثر زمین پر موجود شہریوں کے لیے مہلک ثابت ہوتا ہے۔
اسماعیل سلیم کی ہلاکت بھی اسی بدلتی ہوئی جغرافیائی و عسکری صورتحال کا ایک افسوسناک نتیجہ ہے، جو نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک کربناک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
