نازیہ سالارزئی
جب بھی کسی خوشی کا موقع آتا ہے تو خواتین کے ذہن میں سب سے پہلے مہندی لگانے کا خیال آتا ہے، کیونکہ پاکستان میں یہ روایت خوشیوں کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے۔
مہندی لگانا یقیناً خوبصورت روایت ہے، مگر کیا آپ جانتی ہیں کہ آج کل استعمال ہونے والی کیمیکل والی مہندی کسی کی جان بھی لے سکتی ہے یا عمر بھر کے لیے معذوری کا سبب بن سکتی ہے؟
اسی لیے احتیاط بے حد ضروری ہے، خاص طور پر عید کے موقع پر، جب ہر عمر کی خواتین مہندی لگاتی ہیں۔ آج کل فوری اور گہرا رنگ حاصل کرنے کی خواہش بڑھ گئی ہے، لیکن یہ تیز رنگ اکثر کیمیکل والی مہندی کا نتیجہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا آپ کو بھی وہ لمحے یاد ہیں جب عید کارڈ کے ساتھ چھوٹا سا تحفہ بھی ملتا تھا؟
حیران کن بات یہ ہے کہ اس مہندی کا معمولی سا ذرہ بھی جلد پر لگ جائے تو فوراً دھونے کے باوجود اپنا گہرا نشان چھوڑ جاتا ہے، جو اس میں موجود مضر کیمیکلز کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
مہندی کی نئی اقسام
پرانے زمانے میں صرف کھلی مہندی زیادہ ملتی تھی، مگر آج کی مہندی میں اتنی جدت آ چکی ہے کہ انسان حیران رہ جائے کہ آخر کون سی خریدی جائے۔
جدید مہندی کی اقسام میں ایمرجنسی کون والی مہندی، انجیکشن والی مہندی، پین (قلم) والی مہندی، سفید مہندی (جو عارضی طور پر لگائی جاتی ہے)، ٹیٹو مہندی اور اسٹیکر مہندی شامل ہیں۔
اسٹیکر مہندی میں پہلے سے ڈیزائن شدہ کاغذ ہاتھ پر لگایا جاتا ہے، جو جلد سے چپک جاتا ہے، اور پھر اسے ہٹا دینے کے بعد وہ اپنا گہرا رنگ اور خوبصورت ڈیزائن چھوڑ جاتا ہے۔ یہ طریقہ نہایت آسان ہوتا ہے۔
خالص اور کیمیکل مہندی کا فرق
پرانے زمانے میں خالص مہندی وہ ہوتی تھی جس میں خواتین مہندی کے پتوں کو لا کر پتھر پر پیستی تھیں۔ یہ مہندی خالص ہوتی تھی مگر اس کا رنگ نسبتاً ہلکا ہوتا تھا۔ بعد میں آسانی کے لیے مہندی پاؤڈر کی شکل میں بازاروں میں ملنے لگی۔
خواتین اسے پانی میں ملا کر پیسٹ بناتیں، رات کو ہاتھوں اور پاؤں پر لگاتیں اور کپڑے سے لپیٹ دیتیں تاکہ ڈیزائن خراب نہ ہو۔ اگلے دن اس کا اصل گہرا رنگ ظاہر ہوتا تھا، کیونکہ یہ کیمیکل سے پاک ہوتی تھی۔
آج بھی خالص مہندی دستیاب ہے، جسے زیادہ تر بڑی عمر کی خواتین بالوں کو رنگنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ خالص مہندی کا رنگ دیرپا ہوتا ہے اور پانی کے ساتھ نہیں اترتا۔
اس کے برعکس، کیمیکل والی مہندی میں پی پی ڈی (پیراآفینیلین ڈائیامین) نامی کیمیکل شامل کیا جاتا ہے، جو عموماً ہیئر ڈائی میں استعمال ہوتا ہے تاکہ رنگ گہرا اور فوری آئے۔ اگرچہ ہر فرد کی جلد مختلف ہوتی ہے، لیکن اس کی زیادہ مقدار نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
مہندی سے الرجی
مہندی سے ہونے والی الرجی کو کانٹیکٹ ڈرماٹائٹس کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں ہاتھوں کی انگلیاں سیاہ پڑ سکتی ہیں، کیونکہ خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور انگلیاں سن ہو جاتی ہیں۔
بعض اوقات صورتحال اتنی سنگین ہو جاتی ہے کہ انگلیاں ضائع بھی ہو سکتی ہیں اور ڈاکٹر انہیں کاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، کیونکہ یہ ردعمل جسم کے دیگر حصوں تک پھیل سکتا ہے اور جان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ مہندی لگانے کے بعد جلد پر خارش، سرخی، جلن اور چھالے بھی پڑ سکتے ہیں، جن کے نشانات ختم ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
ہم سب کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خوشی سے بڑھ کر صحت اہم ہے۔ ہمیشہ خالص، قدرتی اور کیمیکل سے پاک مہندی کا انتخاب کریں۔ مہندی لگانے سے پہلے پیچ ٹیسٹ ضرور کریں، یعنی تھوڑی سی مہندی ہاتھ پر لگا کر 10 سے 15 منٹ انتظار کریں۔
اگر جلن، خارش یا کسی بھی قسم کی تکلیف محسوس ہو تو فوراً مہندی دھو دیں اور اس کا استعمال نہ کریں۔ خاص طور پر چھوٹی بچیوں کو کیمیکل والی مہندی سے دور رکھیں، کیونکہ ان کی جلد نہایت حساس ہوتی ہے، اور انہیں اس کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
