خیبرپختونخو کے ضلع خیبر  میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) لنڈی کوتل کے زیر اہتمام پاک افغان طورخم بارڈر کی بندش سے پیدا ہونے والے مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

 

ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے مفتی اعجاز شینواری، قائم مقام امیر لنڈی کوتل محمد احمد بنوری (باچا جی)، جنرل سیکرٹری مولانا عظیم شاہ، قاری نظیم گل شینواری، مولانا عظمت شینواری، قاری مسرت اور قاری وقار احمد سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

 

 

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ طورخم بارڈر کی طویل بندش کے باعث علاقے میں بے روزگاری، مہنگائی اور بدامنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس اہم مسئلے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی بندش کے اثرات دونوں جانب کے عام شہری بھگت رہے ہیں جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

 

انہوں نے مرکزی حکومت کی پالیسی کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 40 سالہ تعلقات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جو مستقبل میں پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

 

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی اعجاز شینواری نے افغان پناہ گزینوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر ایک واضح اور منظم طریقہ کار وضع کرے تاکہ پناہ گزین باعزت طریقے سے اپنے وطن واپس جا سکیں۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ بلاجواز گرفتاریوں اور ہراسانی کے باعث افغان خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

رہنماؤں کے مطابق ایک طرف پناہ گزینوں کو ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ان کے سامان سے لدے ٹرک ہفتوں تک سرحد پر کھڑے رہتے ہیں، جو انتظامی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

 

 انہوں نے مطالبہ کیا کہ تجارت کو سیاسی معاملات سے الگ رکھا جائے اور فوری طور پر امپورٹ و ایکسپورٹ بحال کی جائے تاکہ مقامی معیشت کو سہارا مل سکے۔

 

 

مولانا عظمت شینواری نے کہا کہ پاک افغان شاہراہ پر 17 کلومیٹر طویل قطاروں میں کھڑے پناہ گزینوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور یہ انسانی تذلیل کے مترادف ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ضلعی سطح پر رجسٹریشن پوائنٹس قائم کیے جائیں تاکہ پناہ گزینوں کا ڈیٹا منظم انداز میں جمع کیا جا سکے اور انہیں طویل انتظار سے نجات ملے۔

 

 

جے یو آئی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغان پناہ گزینوں کی پرامن، باعزت اور منظم واپسی کو یقینی بنایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعلقات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔