ضلع بنوں میں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے دوران سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں سمیت سینکڑوں عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ 

 

یہ خطہ، جو شمالی وزیرستان کے سنگم پر واقع ہے اور جنوبی اضلاع کا اہم مرکز بھی سمجھا جاتا ہے، مسلسل بدامنی اور سیکیورٹی چیلنجز کی لپیٹ میں رہا ہے۔

 

ریجنل پولیس آفیسر سجاد خان کے مطابق ضلع بنوں اور لکی مروت میں مجموعی طور پر 33 ڈرون حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں سے 29 بنوں اور 4 لکی مروت میں ہوئے۔ ان حملوں میں 12 شہری جاں بحق، 49 زخمی جبکہ 21 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

 

یہ بھی پڑھیے: “خبر لکھنا اب ہمت کا کام بن گیا ہے”

 

سجاد خان کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی جانب سے نصب اینٹی ڈرون سسٹم کی مدد سے 300 سے زائد ڈرون حملوں کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا جبکہ متعدد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ ان کے مطابق 2026 کے دوران دو دہشت گرد ڈرون آپریٹرز کو بھی ہلاک کیا گیا۔

 

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر یاسر آفریدی کے مطابق پولیس کو فراہم کردہ اینٹی ڈرون سسٹم مؤثر ثابت ہو رہا ہے، جس کی مدد سے اب تک 300 سے زائد ڈرون حملوں کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا اور متعدد ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔

 

 

 ان کے مطابق 2026 کے دوران ڈرون آپریٹ کرنے والے دو دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔

 

جولائی 2025 میں پہلا ڈرون حملہ میریان پولیس اسٹیشن پر ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو گئی۔

 

 میریان پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او انور خان خٹک کے مطابق ان کی چھ ماہ کی تعیناتی کے دوران پولیس اسٹیشن پر 13 ڈرون حملے کیے گئے۔

 

نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شدت آئی، جس کے اثرات بنوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ اس دوران پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے متعدد اہلکار شہید ہوئے۔

 

 ماضی میں ڈرون حملے زیادہ تر ریاستی کارروائیوں تک محدود تھے، خصوصاً نیم قبائلی علاقوں میں جہاں شدت پسند عناصر کے خلاف ہدفی کارروائیاں کی جاتی تھیں۔

 

 

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ جنگ کا انداز تبدیل ہو گیا ہے۔ اب دہشت گرد گروہ بھی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس نے سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

 

ضلعی انتظامی اور تعلیمی ذرائع کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ تعلیمی ادارے، سرکاری عمارتیں اور بنیادی انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوئے ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں جبکہ سرمایہ کاری کا رجحان تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

 

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ہزاروں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا، جنہوں نے عارضی کیمپوں یا دیگر شہروں میں پناہ لی۔ اس صورتحال نے نہ صرف معاشی مشکلات پیدا کیں بلکہ بچوں کی تعلیم اور صحت کے نظام کو بھی متاثر کیا۔

 

نفسیاتی طور پر بھی یہ جنگ عوام پر گہرے اثرات چھوڑ رہی ہے۔ مسلسل خوف، غیر یقینی صورتحال اور بدامنی نے ذہنی دباؤ، بے چینی اور مایوسی میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر خواتین اور بچوں میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہیں۔

 

سیکیورٹی خدشات کے باعث مرکزی شاہراہوں کی بار بار بندش نے آمدورفت اور اشیائے خورد و نوش کی ترسیل کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا اور روزمرہ زندگی مزید مشکل ہو گئی۔

 

اگرچہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق پائیدار امن کے لیے صرف فوجی اقدامات کافی نہیں۔

 

 اس کے لیے بہتر طرزِ حکمرانی، تعلیم، روزگار کے مواقع اور مقامی سطح پر اعتماد سازی پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

 

بنوں ریجن کے عوام اس طویل جنگ سے شدید متاثر ہیں اور وہ صوبائی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ علاقے میں مستقل امن قائم ہو سکے اور لوگ ایک بار پھر خوف سے آزاد زندگی گزار سکیں۔