خولہ زرافشاں
عیدالفطر کی تیاریوں کا ذکر ہو اور عید کارڈز یاد نہ آئیں، ایسا ممکن ہی نہیں۔ ایک وقت تھا جب عید کی خوشیوں کا باقاعدہ آغاز عید کارڈ خریدنے سے ہوتا تھا۔ جونہی رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتا، بازار رنگ برنگے عید کارڈز سے سج جاتے۔
دکانوں کے ساتھ ساتھ گلی محلوں میں بھی لوگ تخت یا چارپائی پر خوبصورت کارڈ سجا کر فروخت کرتے نظر آتے۔ یہ منظر اپنی جگہ ایک الگ ہی رونق، اپنائیت اور دلکشی لیے ہوتا تھا۔
لوگ بڑی محبت اور اہتمام سے عید کارڈ خریدتے اور اپنے دوستوں، عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھیجتے تھے۔ ہر شخص کے لیے الگ کارڈ لیا جاتا، کیونکہ ہر رشتہ اپنی ایک الگ اہمیت اور خوبصورتی رکھتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: آج روزہ نہیں رکھا؟ کیا یہ سوال پوچھنا ضروری ہے؟
دوستوں کے لیے پیار بھرے جملے، بزرگوں کے لیے ادب و احترام، اور چھوٹوں کے لیے دعاؤں اور شفقت سے بھرے الفاظ لکھے جاتے۔ یوں ایک عید کارڈ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ جذبات، خلوص اور یادوں کا حسین امتزاج ہوتا تھا۔
قریب رہنے والوں تک کارڈ پہنچانا آسان تھا، مگر دور دراز شہروں میں بسنے والے عزیزوں کے لیے محکمۂ ڈاک ایک خاص کردار ادا کرتا تھا۔ باقاعدہ اعلان کیا جاتا کہ فلاں تاریخ تک کارڈز بھیج دیے جائیں تاکہ عید سے پہلے اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
لوگ اس بات کا خاص خیال رکھتے کہ ان کے بھیجے گئے کارڈز وقت پر اپنوں تک پہنچیں، تاکہ خوشیوں کی یہ لہر فاصلے مٹا سکے۔
عید کارڈز کی بھی کئی اقسام ہوا کرتی تھیں۔ کچھ کارڈز پر خوبصورت اسلامی خطاطی اور مذہبی پیغامات درج ہوتے، کچھ تاریخی نوعیت کے ہوتے، جبکہ فلمی ستاروں کی تصاویر والے کارڈ نوجوانوں میں بے حد مقبول تھے۔ ہر کارڈ اپنے اندر ایک الگ کہانی اور ایک الگ احساس سموئے ہوتا تھا۔
خوش قسمتی سے ہم نے وہ حسین دور دیکھا ہے جب عید کارڈ بھیجنا ایک خوبصورت روایت ہوا کرتی تھی۔ جیسے جیسے عید قریب آتی، ہم سب ایک دوسرے کو کارڈ بھیجنے کی تیاری میں لگ جاتے۔
اس عمل میں ایک عجیب سی خوشی اور بے چینی شامل ہوتی تھی۔ خاص طور پر سہیلیوں کے درمیان ایک خوبصورت مقابلہ سا ہوتا—کون سب سے خوبصورت اور منفرد کارڈ بھیجے گا۔
میں جب اپنی سہیلیوں کو عید کارڈ بھیجتی تو اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی چھوٹا سا تحفہ ضرور شامل کرتی—جیسے پونی، چوڑیاں، مہندی کا کون یا کوئی اور پیاری سی چیز۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں عید کی خوشیوں کو اور بھی بڑھا دیتی تھیں اور رشتوں میں ایک خاص مٹھاس گھول دیتی تھیں۔
اس وقت ہم سب نوجوان سہیلیاں فلمی ستاروں کی مداح ہوا کرتی تھیں، اس لیے کوشش یہی ہوتی کہ جس سہیلی کو جو اداکار پسند ہو، اسے اسی کی تصویر والا کارڈ بھیجا جائے۔ یوں عید کارڈ صرف مبارکباد نہیں بلکہ محبت، دوستی اور اپنائیت کے اظہار کا ایک خوبصورت ذریعہ بن جاتے تھے۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت آہستہ آہستہ مدھم پڑتی گئی۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے دور نے مبارکباد دینے کا انداز بدل دیا۔ اب ایک ہی پیغام چند لمحوں میں سینکڑوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ سہولت تو بڑھ گئی، مگر وہ ذاتی لمس، وہ انتظار، اور وہ خلوص کہیں پیچھے رہ گیا۔
آج اگرچہ زندگی آسان ہو گئی ہے، مگر عید کارڈز کا وہ زمانہ اپنی سادگی، محبت اور خلوص کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ دور شاید واپس نہ آئے، لیکن اس کی یادیں آج بھی دل میں ایک نرم، خوشگوار احساس جگا دیتی ہیں—ایسا احساس جو ہمیں اپنوں کے اور قریب لے آتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
