شام کے 5 بجے ہیں۔ چارسدہ کے ایک مقامی صحافی مرجان علی اپنے موبائل فون پر چارسدہ میں پرائیویٹ سکولوں کی بے ہنگم گاڑیوں کی وجہ سے ٹریفک کی بندش پر خبر کی آخری لائن لکھ کر رُکتے ہیں۔
خبر مکمل ہے، حقائق بھی درست ہیں، مگر انگلی پبلش کے بٹن پر آ کر ٹھہر جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے: “یہ خبر مجھے کہاں تک لے جائے گی، عدالت تک یا کسی اور مصیبت میں پھنسائے گی؟”
وہ چند لمحے سوچتا ہے اور پھر خبر ڈیلیٹ کر دیتا ہے۔
اسی طرح 28 اپریل کی صبح کا وقت ہے۔ پشاور کی ایک نجی یونیورسٹی میں تقریب جاری ہے۔ صحافی رانی عندلیب اپنے موبائل فون کے ساتھ کوریج کے لیے ہال میں داخل ہوتی ہیں۔ جیسے ہی وہ ریکارڈنگ شروع کرتی ہیں، ایک سیکیورٹی اہلکار ان کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: “کوریج بند کریں”۔
یہ بھی پڑھیے: افغان پناہ گزینوں کی واپسی، لیکن سامان ہفتوں سے طورخم پر کیوں پھنسا؟
وہ رکتی ہیں، پھر چند لمحوں بعد دوبارہ کوشش کرتی ہیں، مگر اس بار بھی وہی جواب ملتا ہے۔ یہ سلسلہ دو، تین بار دہرایا جاتا ہے۔ آخرکار وہ ایک کونے میں کرسی پر بیٹھ جاتی ہیں اور خود سے پوچھتی ہیں: “آخر مسئلہ کیا ہے؟”
کچھ دیر بعد ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ “ہم صرف اپنی قانونی اور آئینی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، مگر ہمیں کام کرنے نہیں دیا جاتا”۔
رانی عندلیب اب ہر نئی کوریج سے پہلے سوچتی ہیں: “کہیں پھر وہی سب نہ ہو جائے”۔
یہ صرف ایک صحافی کا خوف نہیں بلکہ خیبرپختونخوا سمیت پاکستان میں بدلتی ہوئی صحافتی حقیقت ہے، جس کی تصدیق صحافیوں کے تحفظ کی غیرسرکاری تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی 2025-26 کی سالانہ رپورٹ بھی کرتی ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے خلاف 129 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں دو صحافیوں کا قتل، 58 پر الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت مقدمات، 16 پر جسمانی حملے، 11 کو سنگین دھمکیاں اور 2 صحافیوں کی جبری گمشدگی کے واقعات شامل ہیں۔
ان واقعات میں ایک بڑا حصہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سے سامنے آیا ہے، جہاں صحافت اب صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کے مطابق یہ دونوں صوبے صحافیوں کے لیے خطرناک ترین قرار دیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے ایک سینئر صحافی سید شاہ رضا شاہ، جنہیں حالیہ دنوں میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے قتل کی مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں، کہتے ہیں: “یہاں خبر فائل کرنا یا وی لاگ پبلش کرنا اپنے سر کے بدلے پر ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ حقائق موجود ہونے کے باوجود آپ نہیں جانتے کہ کون سی خبر کس کو ناگوار گزر جائے گی”۔
ان کے مطابق دباؤ صرف ایک طرف سے نہیں بلکہ غیر ریاستی عناصر، ریاستی ادارے اور مقامی طاقتور گروہ سب اپنی اپنی حد تک اثرانداز ہو رہے ہیں۔
تاہم فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں پیکا قانون کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، جس کے تحت بڑھتے ہوئے مقدمات نے صحافیوں میں خوف پیدا کیا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کہتے ہیں: “پیکا کو ایک ایسے انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے کہ صحافی خود ہی اپنی زبان محدود کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں”۔
قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے ایک صحافی لعل وزیر کہتے ہیں: “اب ہم خبر ایڈٹ نہیں کرتے، درحقیقت ہمیں ایڈٹ کیا جاتا ہے”۔
تاہم پاکستان میں صحافیوں کی مشکلات اس وقت مزید نمایاں ہوئیں جب 2026 میں عورت مارچ کی کوریج کرنے والی خواتین صحافیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
پشاور کی ایک خاتون نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ “ہمیں صرف رپورٹنگ نہیں کرنی ہوتی، ہمیں خود کو بھی بچانا ہوتا ہے، فیلڈ میں بھی اور آن لائن بھی”۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق خواتین صحافیوں کو ہراسگی، آن لائن بدسلوکی اور ڈیجیٹل حملوں کا زیادہ سامنا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں صحافت کو درپیش معاشی بدحالی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
پشاور میں مقیم صحافی سلمان یوسفزئی کہتے ہیں: “تنخواہ وقت پر نہیں ملتی، نوکری کا کوئی تحفظ نہیں، ایسے میں آپ کتنی دیر تک سچ کے ساتھ کھڑے رہ سکتے ہیں؟”
ان کا کہنا ہے: “گزشتہ سال مجھے ایک ہی نوٹس پر ادارے سے فارغ کر دیا گیا، مگر ایک سال مکمل ہونے کے باوجود بھی آخری ماہ کی تنخواہ بغیر کسی وجہ کے روکی گئی ہے”۔
رپورٹ میں مصنوعی ذہات اور ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال میں اضافے کو مثبت قرار دیا گیا ہے، مگر اس کے ساتھ نگرانی اور غلط معلومات کے خطرات بڑھنے پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی صحافت کو مضبوط بنا سکتی ہے، مگر اگر اسے کنٹرول کیا جائے تو یہی سب سے بڑا ہتھیار بھی بن
سکتی ہے۔"
کہانی واپس چارسدہ کے اسی صحافی پر آ کر رکتی ہے جو آج بھی سچ لکھنا چاہتے ہیں مگر ہر بار اشاعت کے بٹن تک پہنچ کر یہی سوچتے ہیں کہ کیا سچ لکھنے والے واقعی محفوظ ہیں؟
