خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر کی تحصیل گدیزی کے علاقے تورورسک سے تعلق رکھنے والے حضرت بلال نے سی ایس ایس 2025 کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف صوبے میں پہلی بلکہ ملک بھر میں 18ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

 

یہ کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سی ایس ایس ملک کے مشکل ترین مقابلہ جاتی امتحانات میں شمار ہوتا ہے، اور اس سال کامیابی کی شرح صرف 2.67 فیصد رہی۔

 

حضرت بلال کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ ان کے والد پیر محمد ڈپٹی کمشنر آفس بونیر میں نائب قاصد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: بنوں: دہشت گردی کی بدلتی حکمتِ عملی، اب تک کتنے ڈرون حملے ریکارڈ کیے گئے؟

 

 بلال نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے کے ایک نجی اسکول سے حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج ڈگر بونیر سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا اور بعد ازاں اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے شعبہ انگریزی سے بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اپنے شعبے میں گولڈ میڈلسٹ بھی رہے ہیں۔

 

بلال نے سی ایس ایس کی تیاری اپنے تعلیمی دور ہی میں شروع کر دی تھی، تاہم باقاعدہ اور منظم تیاری کے لیے انہوں نے تقریباً دو سال اسلام آباد میں قیام کیا۔ اس دوران انہوں نے سوشل میڈیا اور غیر ضروری سرگرمیوں سے مکمل طور پر دوری اختیار کی اور اپنی تمام تر توجہ اپنے مقصد پر مرکوز رکھی۔

 

 

اپنی تیاری کے تجربے کے بارے میں حضرت بلال کا کہنا ہے کہ سب سے مشکل مرحلہ خود کو ڈسپلن میں رکھنا تھا۔ ان کے مطابق، “سوشل میڈیا سے دور رہنا اور روزانہ مستقل مزاجی کے ساتھ مطالعہ کرنا سب سے بڑا چیلنج تھا، لیکن اگر مقصد واضح ہو تو مشکلات آسان ہو جاتی ہیں۔”

 

انہوں نے بتایا کہ تیاری کے دوران کئی بار مایوسی اور تھکن کے لمحات بھی آئے، تاہم مسلسل محنت اور والدین کی حوصلہ افزائی نے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ 

 

ان کے مطابق سی ایس ایس کا سفر صرف ذہانت کا نہیں بلکہ صبر، قربانی اور تسلسل کا امتحان ہے۔

 

حضرت بلال نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین، خصوصاً والد پیر محمد کی دعاؤں اور سپورٹ کو دیا۔ ان کے مطابق ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں، تاہم انہوں نے اپنی دلچسپی کے مطابق ایڈمنسٹریٹو سروسز کا انتخاب کیا۔

 

 بلال کے مطابق ان کے والد نے ہمیشہ انہیں اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کی آزادی دی اور دستیاب وسائل کے باوجود ہر ممکن سہولت فراہم کی۔

 

رزلٹ کے دن کے بارے میں بات کرتے ہوئے حضرت بلال کے والد  پیر محمد نے بتایا کہ وہ اس دن شدید پریشانی میں مبتلا تھے۔ “دوپہر کے وقت بلال کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ وہ نہ صرف پاس ہو گیا ہے بلکہ صوبے میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کر لی ہے۔ یہ سن کر میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے اور میں نے فوراً مسجد جا کر شکرانے کے نفل ادا کیے۔”

 

حضرت بلال نے نوجوانوں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی کے لیے کسی بڑے نام یا اثر و رسوخ کی نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

 ان کے مطابق نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا اور دیگر غیر ضروری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کتابوں کو بھی وقت دیں اور اپنے مقصد پر مکمل توجہ مرکوز رکھیں۔

 

سی ایس ایس 2025 کے نتائج کے مطابق اس سال امتحان انتہائی مشکل ثابت ہوا، جہاں 12 ہزار سے زائد امیدواروں میں سے صرف 335 امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب ہو سکے۔ اس کم شرحِ کامیابی نے اس امتحان کی سختی اور معیار کو مزید واضح کر دیا ہے۔

 

حضرت بلال کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے ضلع بونیر کے لیے باعثِ فخر ہے، اور اسے نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود بھی بڑے خواب پورے کیے جا سکتے ہیں۔