وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ لویہ جرگے میں مسلسل ڈرون حملوں، صوبے میں بدامنی اور قبائلی اضلاع کے مالی و آئینی حقوق کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

 

 جرگے کے شرکاء نے ڈرون حملوں میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا، جس پر وزیراعلیٰ نے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر جھیلیں پھٹنے سے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری

 

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ جرگے کی سفارشات کی روشنی میں ایک مختصر جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین سے مذاکرات کرے گا۔

 

 انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا اور امن کے حصول تک واپسی نہیں ہوگی۔

 

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ڈرون حملوں کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات فوری طور پر شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں امن کے قیام کے لیے عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ اگر عوام آج نہ اٹھے تو امن کا خواب پورا نہیں ہوگا۔

 

وزیراعلیٰ نے چیک پوسٹوں پر جرگے کے شرکاء کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے عوام میں بے چینی اور نفرت کو جنم دے رہے ہیں۔ 

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے اپنے پہلے اجلاس میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور قانون واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اب بھی 970 افراد مختلف ڈیٹینشن سینٹرز میں زیر حراست ہیں اور ان کی تفصیلات صوبائی حکومت کو فراہم نہیں کی جا رہیں۔

 

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں 22 بڑے فوجی آپریشنز اور 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے باوجود امن قائم نہ ہونا تشویشناک ہے۔

 

 انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر یہی وسائل صوبائی حکومت کے حوالے کیے جائیں تو وہ سو دن میں امن کے قیام کی ضمانت دے سکتے ہیں۔

 

مالی حقوق کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ فاٹا انضمام کے وقت ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم اب تک واجب الادا 800 ارب روپے میں سے صرف 168 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کی آبادی کو شامل کرنے سے این ایف سی میں خیبرپختونخوا کا حصہ 14.6 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد ہو سکتا ہے۔

 

لویہ جرگے میں قبائلی اضلاع کے منتخب نمائندوں، مشران، سینیٹرز، اپوزیشن اراکین اسمبلی، علمائے کرام اور عمائدین نے شرکت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبے کے امن، مالی حقوق اور آئینی اختیارات کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔