پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بیوروکریسی کے رویے کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں اراکین اسمبلی نے سیکرٹری معدنیات پر توہین آمیز رویے اور مسلسل تاخیری حربے استعمال کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنانے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے معاملے پر فوری کارروائی کی یقین دہانی کرا دی۔
پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صوبائی اسمبلی کے اراکین نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا کے بنوں اور شمالی وزیرستان سے پولیو کے دو نئے کیسز سامنے آگئے
اجلاس میں سب سے پہلے نوشہرہ سے منتخب رکن اسمبلی میاں عمر کاکاخیل نے بیوروکریسی کے رویے پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران کا طرزِ عمل درست نہیں، جو باعثِ افسوس ہے۔
اسی دوران خیبر سے منتخب رکن اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر عدنان قادری اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور سیکرٹری معدنیات کے خلاف اپنی شکایت پیش کی۔
انہوں نے بتایا کہ ایک انتہائی اہم نوعیت کے کام کے سلسلے میں وہ گزشتہ چھ ماہ سے سیکرٹری معدنیات کے دفتر کے چکر لگا رہے تھے، تاہم ہر بار تاخیری حربے استعمال کیے گئے اور ایک روز قبل انہیں بتایا گیا کہ کام نہیں ہو سکا۔
عدنان قادری کے مطابق انہوں نے سیکرٹری سے شکوہ کیا کہ اگر کام ہونا ہی نہیں تھا تو چھ ماہ تک انہیں انتظار میں کیوں رکھا گیا اور بار بار دفتر کے چکر کیوں لگوائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر پیر نورالحق قادری کا فون تک نہیں اٹھایا جا رہا تھا۔
اس پر سیکرٹری معدنیات نے جواب دیا کہ آپ کا انداز درست نہیں اور آپ اونچی آواز میں بات کر رہے ہیں۔
عدنان قادری نے پارلیمانی پارٹی کو بتایا کہ انہوں نے سیکرٹری کو جواب دیا کہ چھ ماہ تک معاملہ لٹکانے کے بعد کیا شکایت بھی نہیں کی جا سکتی؟ ان کے مطابق انہوں نے ہاتھ جوڑ کر سیکرٹری سے معذرت بھی کی۔
اس موقع پر دیر سے منتخب رکن اسمبلی ہمایوں خان بھی کھڑے ہوگئے اور عدنان قادری کے مؤقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جب عدنان قادری ہاتھ جوڑ کر معذرت کر رہے تھے، وہ خود بھی اسی وقت سیکرٹری معدنیات کے دفتر پہنچے تھے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران بونیر سے منتخب صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب اس سیکرٹری کا صرف تبادلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسے ہٹا کر کسی اور اہم عہدے، مثلاً کمشنر، پر تعینات کیا گیا تو اس کا رویہ تبدیل نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنے ممبران اسمبلی کی عزتِ نفس کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔
سوات سے منتخب رکن اسمبلی علی شاہ نے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اپنے اراکین اسمبلی کی عزتِ نفس کا دفاع نہیں کر سکتی تو پھر اراکین خود اپنے ساتھیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر تمام اراکین اسمبلی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور وزیراعلیٰ سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یامین خان نے بھی سخت الفاظ میں کہا کہ بیوروکریسی اس وقت ممبران اسمبلی کی بے عزتی کر رہی ہے اور حکومت کو فوری ایکشن لینا ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے سیکرٹری معدنیات کو فوری طور پر ہٹانے کا وعدہ کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کو مکمل تعاون اور مناسب کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
