خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے متاثرین کی باعزت واپسی اور آبادکاری کے حوالے سے باغِ ناران میں آفریدی قوم کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی جرگہ منعقد ہوا، جس میں چوبیس رکنی کمیٹی کے اراکین سمیت مختلف سیاسی، سماجی اور قبائلی عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔


جرگے میں وادی تیراہ کے متاثرین کی واپسی، آبادکاری اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جرگے کے اعلامیے کے مطابق آفریدی قوم کے چھ قبائل ملک دین خیل، کمر خیل، شلوبر، زخہ خیل، آدم خیل اور بر قمبر خیل سے نو، نو نمائندے منتخب کیے جائیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیے : ڈرون حملے: سوال اٹھنے پر جواب محض "آئی ایم سوری" تک محدود رہتا ہے، سہیل آفریدی


منتخب نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ وفد تشکیل دیا جائے گا، جس میں چوبیس رکنی کمیٹی کے اراکین بھی شامل ہوں گے تاکہ مذاکراتی عمل کو مزید مؤثر اور جامع بنایا جا سکے۔


فیصلے کے مطابق یہ نمائندہ وفد آئندہ ہفتے 27 بریگیڈ کے کمانڈر سے ملاقات کرے گا، جس میں متاثرین کی باعزت واپسی، آبادکاری کے ٹائم فریم، سیکیورٹی صورتحال اور عملی طریقہ کار پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔


جرگے کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متاثرین کے مسائل کے حل اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔


اس موقع پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر مذاکرات میں تسلی بخش پیش رفت سامنے آتی ہے تو اس عمل کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، بصورت دیگر آئندہ کے لیے مشترکہ اور جامع لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔