خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں ڈرون حملوں، سکیورٹی صورتحال اور لاپتہ افراد کے معاملے پر تفصیلی اور کشیدہ بحث ہوئی، جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس خصوصی طور پر ڈرون حملوں کے مسئلے پر بلایا گیا ہے، تاہم ان کے مطابق ملٹری آپریشنز مسئلے کا حل نہیں رہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں اور خیبرپختونخوا کو مسلسل تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سرخ سونے کی کاشت: کیا سوات میں زراعت کا نیا دور شروع ہو چکا ہے؟
سہیل آفریدی نے کہا کہ جب بھی صوبے میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہوتی ہیں تو حالات خراب کر دیے جاتے ہیں، جبکہ ڈرون حملوں اور کارروائیوں میں معصوم شہری "کولیٹرل ڈیمیج" کی صورت میں جانیں گنوا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے عام طور پر اعلیٰ حکام کی رہائش گاہوں پر نہیں بلکہ عام شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہیں، اور جب سوال اٹھایا جائے تو جواب صرف "آئی ایم سوری" تک محدود رہتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور قانون کے تحت متعدد افراد کو لاپتہ کیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان، خصوصاً خواتین، برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کی منتظر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 970 مبینہ دہشت گردوں کی فہرست طلب کرنے کے لیے متعدد بار خطوط لکھے، تاہم اب تک یہ فہرست فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے قانونی اور انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ حکومت "کولیٹرل ڈیمیج" کے خلاف نیا قانون لانے پر کام کر رہی ہے، تاکہ شہری جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ ان کے گھر کے اوپر بھی ڈرون پرواز کرتے رہے، اور انہوں نے واضح پیغام دیا کہ اگر ڈرون نہ روکے گئے تو انہیں گرایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سکیورٹی چیک پوسٹ پر ایک ایم پی اے کو بھی ایک سپاہی نے روک کر کارڈ چیک کیا، جو سکیورٹی پروٹوکول اور عوامی نمائندوں کے ساتھ رویے پر سوالات اٹھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بھی اس معاملے پر حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور فوری طور پر سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہیں نہ اپنی جان کی پروا ہے اور نہ ہی کرسی کی، وہ کسی لابنگ کے ذریعے اس عہدے تک نہیں پہنچے بلکہ عوامی مفاد کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔
