خیبرپختونخوا رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں عوامی خدمات سے متعلق 10 عوامی شکایات کی سماعت ہوئی، جس میں مختلف اضلاع سے شہریوں کی درخواستوں پر اہم فیصلے کیے گئے۔
ساؤتھ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے شہری غلام رسول نے پولیس ویری فیکیشن میں تاخیر کے خلاف کمیشن سے رجوع کیا تھا۔
سماعت کے دوران بتایا گیا کہ درخواست گزار کو متعلقہ سروس فراہم کر دی گئی ہے، تاہم قانون میں مقررہ مدت سے تاخیر پر کمیشن نے ریجنل پولیس آفیسر ڈی آئی خان کو متعلقہ ڈی پی او کے خلاف قانونی کارروائی کر کے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔
یہ بھی پڑھیے: جوائنٹ فیملی: محبت کا نظام یا خاموش بوجھ؟
مانسہرہ سے سکینہ بی بی نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن میں درخواست دائر کی تھی۔ کمیشن نے اس معاملے پر ڈی پی او مانسہرہ کو شہری کا مؤقف سن کر مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی تھی، مگر مقررہ وقت میں جواب موصول نہ ہونے پر ڈی پی او کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔
اسی طرح ہری پور کے شہری عابد خان کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے دی گئی درخواست پر کمیشن نے ڈی پی او ہری پور کو یاد دہانی نوٹس جاری کرتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت کی۔
کمیشن نے سرکاری افسران پر زور دیا کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں تاخیر اور غفلت سے گریز کیا جائے۔
کمیشن کا کہنا تھا کہ بنیادی سرکاری خدمات تک بروقت رسائی ہر شہری کا حق ہے اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خدمات کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر اور بہتر بنائیں۔
شکایات کی سماعت چیف کمشنر محمد علی شہزادہ اور کمشنر ذاکر حسین آفریدی نے کی۔
