پاکستان میں جوائنٹ فیملی (مشترکہ خاندانی نظام) صدیوں سے ہماری سماجی اور ثقافتی روایات کا اہم حصہ رہا ہے۔ اس نظام کو محبت، اتحاد، تعاون اور باہمی وابستگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 

 

ایک ہی گھر میں والدین، بہن بھائی، بھابھیاں، بچے اور دیگر رشتہ دار مل کر رہتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹتے ہیں اور ضرورت کے وقت سہارا بنتے ہیں۔

 

 بظاہر یہ نظام بہت خوبصورت اور مضبوط دکھائی دیتا ہے، مگر وقت کے ساتھ اس کے کئی ایسے پہلو سامنے آئے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 

ہر نظام کی طرح جوائنٹ فیملی سسٹم بھی مکمل نہیں۔ اس میں خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خامیوں پر بات کرنے کے بجائے انہیں خاموشی سے برداشت کیا جاتا ہے۔

 

 خاص طور پر ہمارے معاشرے میں عورتیں اکثر اپنے مسائل اس لیے بیان نہیں کرتیں کہ کہیں گھر کا ماحول خراب نہ ہو جائے یا انہیں غلط نہ سمجھا جائے۔

 

یہ بھی پڑھیے: باجوڑ: سرکاری ریڈیو اسٹیشن کے ٹرانسفارمر کے لنکس واپڈا حکام اتار کر لے گئے

 

خاص طور پر وہ عورت جس کا شوہر بیرونِ ملک کام کرتا ہو، بظاہر سب یہی کہتے ہیں کہ وہ اکیلی نہیں، گھر والے اس کے ساتھ ہیں۔ مگر حقیقت اکثر مختلف ہوتی ہے۔

 

 وہ عورت ذہنی طور پر خود کو تنہا محسوس کرتی ہے۔ اسے بچوں کے لیے ایک ہی وقت میں ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ دوسری طرف گھر کے اندر کئی فیصلوں میں اس کی آزادی محدود ہوتی ہے۔ کہاں جانا ہے، کیا خریدنا ہے، کیا پکانا ہے، بچوں کے لیے کیا بہتر ہے—اکثر یہ سب فیصلے بھی وہ خود نہیں کر پاتی۔

 

 بعض اوقات اپنے ہی پیسوں سے بچوں کے لیے کچھ خریدنا بھی وضاحت مانگتا ہے۔

 

یہ بظاہر چھوٹی باتیں ہوتی ہیں، مگر یہی چیزیں آہستہ آہستہ عورت کے ذہنی سکون، اعتماد اور شخصیت پر اثر ڈالتی ہیں۔ اگر عورت بولے تو اسے گھر کا ماحول خراب کرنے والی سمجھا جاتا ہے، اور اگر خاموش رہے تو اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہے۔

 

جوائنٹ فیملی سسٹم کا ایک اور اہم پہلو وہ قربانیاں ہیں جو اکثر گھر کا ایک فرد دیتا ہے۔

 

 ہمارے معاشرے میں اکثر یہ ذمہ داری بڑے بیٹے پر ڈال دی جاتی ہے، حالانکہ بعض گھروں میں یہ بوجھ کسی بھی ایک فرد کے حصے میں آ سکتا ہے۔ وہ اپنی تعلیم، خواب اور خواہشات کو ایک طرف رکھ کر خاندان کی ضروریات پوری کرنے لگتا ہے۔ بہن بھائیوں کی تعلیم، شادی، والدین کی خدمت اور گھر کے اخراجات—سب کچھ اسی کے کندھوں پر آ جاتا ہے۔

 

مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جب یہی شخص عمر، بیماری یا کمزوری کے مرحلے میں پہنچتا ہے تو اکثر وہی لوگ اس سے دور ہو جاتے ہیں جن کے لیے اس نے اپنی جوانی اور کمائی قربان کی ہوتی ہے۔

 

کچھ دن پہلے ایک لڑکی نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اس کا مقصد آن لائن کام شروع کرنے کے بارے میں رہنمائی لینا تھا، کیونکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے خود کچھ کمانا چاہتی تھی۔ باتوں باتوں میں اس نے اپنی زندگی کا ایک ایسا پہلو بتایا جس نے دل کو ہلا کر رکھ دیا۔

 

 اس نے بتایا کہ اس کے والد نے پوری زندگی اپنے بہن بھائیوں کے لیے قربانیاں دیں، ان کی ضروریات پوری کیں اور ہر مشکل وقت میں ان کا سہارا بنے رہے، مگر آج جب وہ بیماری اور کمزوری کے مرحلے میں ہیں تو ان کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں۔ یہاں تک کہ اس لڑکی کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ادھار لینا پڑا۔

 

 اس صورتحال کو دیکھ کر نہ صرف دکھ ہوا بلکہ ایک گہرا محرومی کا احساس جنم لیتا ہے۔

 

یہ سوال بہت اہم ہے کہ جو شخص سب کے لیے سہارا بنے، مشکل وقت میں وہ خود بے سہارا کیوں رہ جائے؟

 

اس نظام میں ایک بڑی غلطی مالی منصوبہ بندی نہ ہونا بھی ہے۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ اپنی پوری کمائی خاندان پر خرچ کر دیتے ہیں اور اپنے مستقبل، بیماری، بڑھاپے یا بچوں کی تعلیم کے لیے کچھ محفوظ نہیں رکھتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعد میں سب سے زیادہ مشکلات ان کی اپنی عورت اور بچوں کو اٹھانی پڑتی ہیں۔

 

اسی طرح بچے بھی اس نظام سے متاثر ہوتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے والد سب کے لیے موجود ہیں مگر ان کے لیے وقت اور توجہ کم ہے، تو ان کے اندر احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ اور عورت، جو پورا گھر سنبھالتی ہے، اکثر اپنی ذات، اپنی خواہشات اور اپنی ذہنی صحت کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم بذاتِ خود برا نہیں۔ اگر اس میں انصاف، احترام، حدود اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم ہو تو یہ بہترین نظام ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن جب سارا بوجھ ایک ہی شخص پر ڈال دیا جائے اور باقی صرف فائدہ اٹھائیں، تو یہی نظام رحمت کے بجائے بوجھ بن جاتا ہے۔

 

ہمیں جوائنٹ فیملی سسٹم ختم کرنے کی نہیں، بلکہ اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

 

 ایسا نظام جہاں عورت کی آواز سنی جائے، عورتوں کے فیصلوں کا احترام کیا جائے، ایک فرد پر تمام ذمہ داریاں نہ ڈالی جائیں، اور قربانی کو حق نہیں بلکہ احسان سمجھا جائے۔ کیونکہ رشتے صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کا نام ہیں۔ اگر محبت کے ساتھ انصاف نہ ہو تو یہی نظام خاموش تکلیف میں بدل جاتا ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔