ہر گھر میں ایک ایسا بچہ ضرور ہوتا ہے جو بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوتا ہے۔ چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی، اس کی زندگی اکثر باقی بہن بھائیوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
بظاہر لوگوں کو لگتا ہے کہ بڑا ہونا عزت، اختیار اور مقام کی علامت ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ گھر کا سب سے بڑا بچہ اکثر خاموش ذہنی دباؤ، متعدد ذمہ داریوں اور جذباتی نظراندازی کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے۔
اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر حال میں مضبوط رہے، سب کچھ سنبھالے اور کبھی شکایت نہ کرے۔ مگر اس کے اپنے جذبات کو اکثر اہمیت نہیں دی جاتی یا بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اسے گھر کی خاموش قربانی بنا دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وادی تیراہ کے متاثرین کی واپسی اور آبادکاری سے متعلق جرگے نے کیا فیصلے کیے؟
بڑے بچے کو بہت جلد بڑا بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی عمر سے زیادہ ذمہ داریاں اس کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہیں۔ اسے کہا جاتا ہے کہ سمجھدار بنو، برداشت کرو، چھوٹوں کا خیال رکھو اور ہر صورتحال کو سنبھالو۔ اگر وہ کبھی تھک جائے، رو دے یا کمزور محسوس کرے تو فوراً اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ تم بڑے ہو تمہیں مضبوط ہونا چاہیے۔
یہ جملے آہستہ آہستہ اس کے اندر یہ سوچ بٹھا دیتے ہیں کہ اس کے اپنے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں۔ وہ سیکھ لیتا ہے کہ دوسروں کے لیے جینا ہے مگر اپنے لیے نہیں۔
کیا واقعی بڑے بچے کے اپنے احساسات نہیں ہوتے؟ کیا وہ انسان نہیں ہوتا؟ کیا اسے تھکن، دکھ اور تنہائی محسوس نہیں ہوتی؟ یہ وہ سوال ہیں جو اکثر لوگ پوچھنا بھول جاتے ہیں۔
اکثر والدین انجانے میں بڑے بچے سے غیر معمولی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ وہی بچہ چھوٹوں کا خیال رکھنے والا بھی ہوتا ہے، ماں باپ کا مددگار بھی اور پورے گھر کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے والا بھی۔ اگر گھر میں کوئی مسئلہ ہو تو سب سے پہلے اس کی طرف دیکھا جاتا ہے۔
اس کی خواہشات، خواب اور پسند ناپسند آہستہ آہستہ پیچھے چلی جاتی ہیں۔
یوں وہ ایک ایسا فرد بن جاتا ہے جو سب کے لیے موجود ہوتا ہے مگر اپنے لیے نہیں۔
بڑے بیٹے سے اکثر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ خاندان کا سہارا بنے گا، کبھی نہیں ٹوٹے گا اور ہر مشکل میں مضبوط رہے گا۔
اسی طرح بڑی بیٹی سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ وہ گھر سنبھالے گی، ماں کا ہاتھ بٹائے گی اور اپنی خواہشات کو قربان کرے گی۔ دونوں صورتوں میں ایک بات مشترک ہے کہ ان کے اپنے جذبات اور ضروریات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ جب بڑا بچہ اپنی تھکن یا پریشانی کا اظہار کرے تو اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
اسے کہا جاتا ہے کہ تم بڑے ہو، تمہیں ایڈجسٹ کرنا چاہیے یا چھوٹے ہیں انہیں سمجھاؤ۔ مگر یہ نہیں سوچا جاتا کہ وہ بھی انسان ہے، وہ بھی تھک سکتا ہے اور اسے بھی سہارا چاہیے۔
وقت کے ساتھ بڑا بچہ خاموش ہونا سیکھ لیتا ہے۔ وہ اپنی باتیں دل میں دفن کر دیتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ شاید سننے والا کوئی نہیں۔ وہ سب کے دکھ سنتا ہے اور سب کو سنبھالتا ہے مگر اپنے درد کے ساتھ اکیلا رہ جاتا ہے۔ یہی خاموشی بعد میں ذہنی دباؤ اور تنہائی میں بدل جاتی ہے۔
کچھ بڑے بچے حد سے زیادہ ذمہ دار بن جاتے ہیں اور ہر بوجھ خود اٹھا لیتے ہیں۔ کچھ اندر ہی اندر ٹوٹ جاتے ہیں مگر باہر سے مضبوط نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مضبوط نہیں ہوتے بلکہ صرف جذبات چھپانا سیکھ لیتے ہیں۔
انہیں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی ان سے بھی پوچھے کہ وہ کیسے ہیں اور کیا وہ واقعی خوش ہیں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بڑا بچہ ہونا کوئی ذمہ داری کا سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ صرف پیدائش کی ترتیب ہے۔ اسے بھی محبت، توجہ اور سمجھنے والے رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر اس کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے اور ذمہ داریاں بانٹی جائیں تو پورا گھر زیادہ سکون اور توازن میں رہ سکتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
