سوات میں زعفران کی کاشت نے حالیہ عرصے میں خاصی توجہ حاصل کی ہے، جہاں اسے موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ایک متبادل اور منافع بخش فصل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 

 

مقامی کسانوں کے مطابق روایتی فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کے بعد زعفران کی طرف رجحان میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

 

زعفران ایک قیمتی اور خوشبودار فصل ہے جو باریک سرخ دھاگوں کی شکل میں حاصل کی جاتی ہے۔ یہ اپنی منفرد خوشبو، رنگ اور ذائقے کی وجہ سے دنیا بھر میں استعمال ہوتا ہے۔ اسے کھانوں، میٹھوں، دودھ، قہوے، خوبصورتی کی مصنوعات اور بعض ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

 

طبی ماہر ڈاکٹر طاہرہ کے مطابق زعفران جسمانی توانائی بڑھانے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور یادداشت بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ جلد کی بہتری اور رنگت نکھارنے میں بھی معاون ہے۔

 

سوات کے کسان اب بدلتے موسم اور کم ہوتی پیداوار کے باعث متبادل فصلوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں زعفران ایک مضبوط امید بن کر سامنے آیا ہے۔

 

 

بر قلعہ منگلور بشبنڑ سے تعلق رکھنے والے کسان قیصر علی کے مطابق انہوں نے ستمبر 2025 میں پہلی بار زعفران کی کاشت شروع کی۔ وہ پہلے چاول اور گندم کی کاشت کرتے تھے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ان فصلوں کی پیداوار متاثر ہوئی، جس کے بعد انہوں نے زعفران کی طرف رخ کیا۔

 

ان کے مطابق زعفران کی کاشت میں ابتدائی لاگت زیادہ ضرور ہے، لیکن یہ انتہائی منافع بخش فصل ہے، اسی لیے اسے “سرخ سونا” کہا جاتا ہے۔

 

حکومت کی جانب سے بھی اس فصل کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے تحت کسانوں کو بیج (کورمز)، کھاد، جراثیم کش ادویات اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

 

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) سوات، ڈاکٹر افتخار احمد کا کہنا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا نے ایک اہم منصوبہ انٹروڈکشن اینڈ پروموشن آف سفیران اِن پوٹینشل ڈسٹرکٹس آف خیبر پختونخوا شروع کیا ہے۔ 

 

اس منصوبے کے تحت کسانوں کو مفت بیج، کھاد اور زرعی ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ جدید طریقۂ کاشت سکھانے کے لیے ایکسپوژر وزٹس اور عملی تربیت کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

 

 

ڈاکٹر افتخار کے مطابق تربیت دو حصوں پر مشتمل ہے: ایک رسمی تربیت جس میں کلاس روم لیکچرز شامل ہوتے ہیں، اور دوسری غیر رسمی تربیت جس میں زرعی ماہرین کھیتوں میں جا کر عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

 

ڈاکٹر افتخار احمد کے مطابق سوات کی آب و ہوا، مٹی اور ٹھنڈا موسم زعفران کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ خاص طور پر وہ علاقے جو 3500 فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع ہیں، اس فصل کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ تاہم زیادہ بارش، کھڑا پانی اور زیادہ گرمی اس فصل کے لیے نقصان دہ ہیں۔

 

ان کے مطابق حکومت نے ایک سپورٹ پالیسی بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت سوات کی وہ زمینیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں اور جہاں روایتی فصلیں بہتر طریقے سے نہیں اگ رہیں، انہیں زعفران کی کاشت کے لیے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

 

 

وہ مزید کہتے ہیں کہ ہماری کوشش ہے کہ سوات میں اصل زعفران کی کاشت کو فروغ دیا جائے۔ اصل زعفران کی پہچان اس کی منفرد خوشبو اور معیار ہے۔ جب اسے ابلتے پانی میں ڈالا جائے تو یہ فوراً رنگ نہیں چھوڑتا بلکہ دو یا تین مرتبہ ڈالنے پر آہستہ آہستہ رنگ تبدیل کرتا ہے، اور اس کا رنگ گہرا سرخ ہوتا ہے، زردی مائل نہیں ہوتا۔

 

مارکیٹ کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زعفران کی طلب ابھی محدود ہے، جبکہ عالمی سطح پر اسپین، ایران، امریکہ، چین اور جاپان بڑی منڈیاں ہیں۔ پاکستان میں اس کی قیمت تقریباً 4 لاکھ سے 15 لاکھ روپے فی کلو تک ہے۔

 

 

انہوں نے مزید بتایا کہ زعفران کی قیمت اس کے معیار اور مخصوص کیمیائی اجزاء جیسے کروسین اور سافرانل کی مقدار پر منحصر ہوتی ہے، جو لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے جانچی جاتی ہے۔ جتنی زیادہ ان اجزاء کی مقدار ہو، اتنی ہی زیادہ اس کی قیمت ہوتی ہے۔

 

ان کے مطابق مقامی سطح پر لوگ درآمد شدہ زعفران کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں کیونکہ بیرون ممالک میں جدید ٹیکنالوجی اور بہتر طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ہماری کوشش جاری ہے کہ کسانوں کو جدید سائنسی طریقے سکھائے جائیں۔

 

انہوں نے کہا کہ زعفران کی کاشت کے لیے ستمبر اور اکتوبر کا مہینہ سب سے موزوں ہے، جبکہ دیگر مہینوں میں اس کی کاشت مشکل ہوتی ہے۔ 

 

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فصل کو کھڑے پانی سے بچانا ضروری ہے کیونکہ اس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے، اور آبپاشی کم مقدار میں اور وقفے وقفے سے کی جانی چاہیے۔

 

ڈاکٹر افتخار احمد کے مطابق حال ہی میں سوات سے 325 گرام زعفران امریکہ برآمد کیا گیا، جسے وہاں مثبت پذیرائی ملی۔ امریکہ کی مختلف کمپنیوں نے سوات کے زعفران کے معیار اور ذائقے کو پسند کیا ہے اور مستقبل میں تجارتی معاہدوں کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ تاہم کوشش یہ ہے کہ مقامی سطح پر پیداوار میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ طلب کو بروقت پورا کیا جا سکے۔

 

 

مقامی کسانوں کے مطابق اگر جدید زرعی طریقے اپنائے جائیں اور کسانوں کو مسلسل تربیت دی جائے تو زعفران نہ صرف ایک فصل بلکہ ایک معاشی انقلاب بن سکتا ہے۔

 

واضح رہے کہ  تو سوات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث روایتی فصلیں متاثر ہو رہی ہیں، جس کے بعد زعفران ایک متبادل اور پائیدار حل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

 

 حکومتی اقدامات اور کسانوں کی دلچسپی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے وقت میں یہ فصل علاقے کی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔