خیبرپختونخوا کے زکوٰۃ فنڈ میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور خوردبرد کا انکشاف ہوا ہے، جہاں مستحق افراد کے لیے مختص رقوم سرکاری ملازمین میں تقسیم کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق گریڈ 1 سے 17 تک کے سرکاری ملازمین زکوٰۃ فنڈ کے غلط استعمال میں ملوث پائے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے 317 جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کے 33 ملازمین نے زکوٰۃ فنڈ سے رقم حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 6، سندھ کے 5 اور بلوچستان کے 3 سرکاری ملازمین بھی اس غیرقانونی ادائیگی میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 419 سرکاری ملازمین نے زکوٰۃ فنڈ سے 53 لاکھ روپے سے زائد رقم حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: حکومت اور اپوزیشن کا مشترکہ جرگہ، امن و امان سے متعلق کیا اہم فیصلے ہوئے؟
آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 15 ملازمین نے 30، 30 ہزار روپے جبکہ 404 ملازمین نے 12، 12 ہزار روپے بطور گزارہ الاؤنس وصول کیے۔ ان میں گریڈ 17 کے 2، گریڈ 16 کے 2، گریڈ 15 کے 13، گریڈ 14 کے 9، گریڈ 13 کے 2 اور گریڈ 12 کے
20 ملازمین شامل ہیں۔
مزید تفصیلات کے مطابق گریڈ 1 کے 60، گریڈ 2 کے 56، گریڈ 5 کے 63 اور گریڈ 6 کے 50 ملازمین نے بھی 12 ہزار روپے فی کس حاصل کیے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین گزارہ الاؤنس کے اہل نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں ادائیگیاں کی گئیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ اور لوکل زکوٰۃ کمیٹیوں میں غیر قانونی طور پر سرکاری ملازمین کو شامل کیا گیا، جو زکوٰۃ ایکٹ کی واضح خلاف ورزی ہے۔
ان 111 سرکاری ملازمین کو کمیٹی ممبران کی حیثیت سے الاؤنسز کی مد میں ایک کروڑ 95 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔
اسی طرح گزارہ الاؤنس کی مد میں غیر مستحق افراد کو ایک کروڑ 97 لاکھ روپے کی ادائیگی اور شادی اسسٹنس پروگرام میں 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
آڈیٹر جنرل نے تمام غیرقانونی طور پر ادا کی گئی رقم سرکاری ملازمین سے واپس لینے اور ملوث زکوٰۃ کمیٹی ممبران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
