وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سرکاری اخراجات اور ایندھن کی بچت کے لیے متعدد اہم اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کو فراہم کیے جانے والے تیل میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، تاہم ایمبولینس اور عوامی استعمال کی بسیں اس کٹوتی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیاں دو ماہ کے لیے بند رکھی جائیں گی۔ اس کے علاوہ وفاقی وزرا، کابینہ ارکان، مشیر اور معاونین خصوصی دو ماہ تک تنخواہ نہیں لیں گے، جبکہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: رمضان میں تلی ہوئی غذائیں: کن بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
انہوں نے مزید بتایا کہ تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کی دو دن کی تنخواہ عوامی ریلیف کے لیے مختص کی جائے گی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ دیگر اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جائے گی اور گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنرز اور دیگر سامان کی خریداری پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وفاقی و صوبائی وزرا، مشیر، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران کے بیرونِ ملک دوروں پر بھی پابندی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم، گورنر اور وزرائے اعلیٰ بھی اس پابندی کے دائرے میں آئیں گے، تاہم ملکی مفاد میں انتہائی ناگزیر دوروں کی اجازت دی جا سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔
ایندھن کی بچت کے پیش نظر ہفتے میں ایک اضافی چھٹی دی جائے گی اور سرکاری دفاتر ہفتے میں صرف چار دن کھلیں گے، تاہم یہ فیصلہ بینکوں پر لاگو نہیں ہوگا۔
وزیراعظم کے مطابق سرکاری و نجی اداروں میں انتہائی ضروری خدمات کے علاوہ 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا، جبکہ صنعت اور زراعت کے شعبوں میں ورک فرام ہوم کا اطلاق نہیں ہوگا۔
تعلیمی اداروں کے حوالے سے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ تمام اسکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتے کی چھٹیاں دی جائیں گی، جبکہ ہائر ایجوکیشن اداروں میں آن لائن کلاسز کا آغاز کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی مصنوعی قلت یا ناجائز منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی اور اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
