رمضان کا مہینہ ہمیں صبر، برداشت اور نظم و ضبط سکھاتا ہے۔ دن بھر روزہ رکھنے کے بعد افطار کے وقت دل چاہتا ہے کہ دسترخوان پر ہر پسندیدہ چیز موجود ہو۔
اسی لیے ہمارے گھروں اور بازاروں میں سموسے، پکوڑے، جلیبیاں، کچوریاں اور دیگر تلی ہوئی اشیاء خاص طور پر اسی مہینے میں زیادہ تیار اور استعمال کی جاتی ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ وقتی ذائقہ ہماری صحت پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
اسی موضوع پر میری گفتگو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے کنسلٹنٹ نیوٹریشنسٹ ساجد اقبال سے ہوئی۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف سموسوں یا پکوڑوں کا نہیں بلکہ ان میں موجود زیادہ تیل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا رمضان میں ماہواری روکنے کی گولیاں صحت کے لیے نقصان دہ ہیں؟
تیل کیلوریز سے بھرپور ہوتا ہے اور جب کوئی چیز ڈیپ فرائی کی جاتی ہے تو وہ بڑی مقدار میں تیل جذب کر لیتی ہے۔ اس طرح چند منٹوں میں ہم اتنی کیلوریز لے لیتے ہیں جتنی شاید پورے دن میں درکار بھی نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ رمضان میں چونکہ کھانے کے اوقات محدود ہوتے ہیں، اس لیے لوگ افطار کے وقت زیادہ کھا لیتے ہیں۔ اگر یہ زیادہ کھانا تلی ہوئی اشیاء پر مشتمل ہو تو ایک مہینے میں 3 سے 4 کلو تک وزن بڑھ جانا غیر معمولی بات نہیں۔
ساجد اقبال کے مطابق زیادہ چکنائی والی غذا معدے پر بھی بوجھ ڈالتی ہے۔ افطار کے فوراً بعد تلی ہوئی چیزیں کھانے سے تیزابیت، گیس اور بدہضمی کی شکایات بڑھ سکتی ہیں۔
بعض افراد رمضان میں سینے کی جلن اور پیٹ درد کی شکایت بھی کرتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ بھاری اور چکنائی والی غذا ہوتی ہے۔ مسلسل زیادہ چکنائی کا استعمال جگر پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جنہیں پہلے سے فیٹی لیور کا مسئلہ ہو۔
انہوں نے ایک اور اہم بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بازاروں میں اکثر ایک ہی تیل کو بار بار گرم کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے تیل میں ایسے مضر اجزاء بن سکتے ہیں جو طویل عرصے میں مختلف بیماریوں کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔ اس لیے اگر تلی ہوئی چیز کھانی بھی ہو تو بہتر ہے کہ وہ گھر میں کم تیل کے ساتھ تازہ تیار کی جائے۔
افطار کے حوالے سے ساجد اقبال کا مشورہ ہے کہ آغاز کھجور اور پانی سے کیا جائے، اس کے بعد تازہ پھل کھائے جائیں۔ جوس کے بجائے پورا پھل بہتر انتخاب ہے کیونکہ اس میں فائبر موجود ہوتا ہے۔
اس کے بعد مناسب مقدار میں پروٹین والی غذائیں جیسے چکن، مچھلی، گوشت یا دالیں شامل کی جا سکتی ہیں۔ سلاد اور سبزیاں بھی افطار کا حصہ ہونی چاہئیں کیونکہ فائبر والی غذائیں معدہ بھرنے کے ساتھ شوگر لیول کو بھی متوازن رکھتی ہیں۔
سحری کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ صرف چائے اور پراٹھے پر انحصار کرنا مناسب نہیں۔ سحری ایسی ہونی چاہیے جو دن بھر توانائی فراہم کرے۔ انڈا، دہی، دالیں، لوبیا، دلیہ اور ہول ویٹ روٹی بہتر انتخاب ہیں۔ فائبر اور پروٹین سے بھرپور غذا دیر تک بھوک کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
ان کے مطابق صرف تلی ہوئی اشیاء ہی نہیں بلکہ زیادہ میٹھا، سفید آٹے سے بنی اشیاء، بیکری آئٹمز اور سافٹ ڈرنکس کا استعمال بھی محدود رکھنا چاہیے۔ یہ چیزیں وقتی طور پر توانائی دیتی ہیں لیکن جلد ہی شوگر لیول کو نیچے لے آتی ہیں، جس کے باعث دوبارہ بھوک لگتی ہے اور انسان ضرورت سے زیادہ کھا لیتا ہے۔
رمضان دراصل اپنی عادات کو بہتر بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر اس مہینے میں کم تیل، کم میٹھا اور متوازن غذا اپنانے کی عادت ڈال لی جائے تو یہی طرزِ زندگی پورا سال صحت مند رہنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ساجد اقبال کے مطابق تلی ہوئی غذائیں وقتی طور پر ذائقہ ضرور دیتی ہیں، لیکن ان کا زیادہ استعمال وزن میں اضافے، معدے کے مسائل اور دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ رمضان کو صرف کھانے پینے کا مہینہ بنانے کے بجائے اسے صحت مند طرزِ زندگی کی شروعات کا موقع بنایا جائے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
